انیس سال سے سرکاری وعدوں کی تکمیل کا انتظار کر رہی کارگل شہید کی بیوہ

Jul 26, 2017 11:27 AM IST | Updated on: Jul 26, 2017 11:28 AM IST

میرٹھ ۔ میرٹھ میں کارگل شہید کی بیوہ 19 سال سے ایک سڑک کا نام شوہر کے نام کرنے، ان کے نام سے ایک گیٹ لگوانے اور شہید کی سمادھی بنوانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ زمین کے لئے وہ کئی بار لیکھ پال کو رشوت بھی دے چکی ہیں۔ لیکن کام نہیں ہوا۔ شہید کی بیوہ کا نام ببتا دیوی ہے۔ ان کے شوہر لانس نائک ستپال سنگھ کارگل جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ اس وقت ببتا کی عمر محض 22 سال تھی۔ دو بچے تھے، ساڑھے چار سال کا بیٹا اور ڈیڑھ سالہ بیٹی۔

نہیں ملی زمین

انیس سال سے سرکاری وعدوں کی تکمیل کا انتظار کر رہی کارگل شہید کی بیوہ

ببتا بتاتی ہیں کہ ریاستی حکومت کی جانب سے زمین دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن کچھ بیگھہ زمین ہی حکومت کے جانب سے ان کو مل پائی ہے اور باقی کے لیے وہ حکام کے چکر آج بھی لگا رہی ہیں۔ شہید کے نام پر سڑک، سمادھی اور گیٹ لگوانے کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہو پایا۔ اس بابت ببتا دیوی حکام کے ساتھ وزیر اعلی اور وزیر اعظم تک کو خط لکھ چکی ہیں۔ لیکن ہوا کچھ نہیں۔

وعدوں کو پورا کروانے کے لئے ببتا کی جدوجہد جاری ہے۔ وہ اپنے بچوں کو دہلی میں پڑھا رہی ہیں۔ بیٹا ایم بی اے کر رہا ہے جبکہ بیٹی دہلی کے لیڈی شری رام کالج میں انگلش آنرز کر رہی ہے۔ ببتا دیوی کا کہنا ہے کہ وہ بیٹے کو فوج میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ شہید کی بیوہ کو اس بات کا ملال ہے کہ 1999 میں تو ان کے گھر پر لیڈروں کا، حکام کا میلہ لگا تھا لیکن اس کے بعد ان کی خیر خبر لینے کے لئے کوئی نہیں آیا۔

حکومت سے ملا ہے پٹرول پمپ

شہید کی بیوہ کو ایک پیٹرول پمپ ملا ہے، جس کا وہ مینجمنٹ خود کرتی ہیں۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن حالات نے انہیں سب کچھ سکھا دیا۔ شہید کی بیوہ ان مسائل پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنے کا وقت مانگ رہی ہیں کہ ایک بار وزیر اعلی سے مل کر وہ اپنی بات رکھنا چاہتی ہیں۔ اس سے پہلے ایس پی حکومت کے وقت بھی انہوں نے اکھلیش یادو سے ملنے کا وقت مانگا تھا لیکن وقت نہیں مل پایا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز