رواں مالی سال میں ہی ایئر انڈیا سے سرمایہ کشی کی تیاری، کارروائی تیز ، حکومت اپنا سکتی ہے یہ نیا طریقہ

Jul 09, 2017 02:15 PM IST | Updated on: Jul 09, 2017 02:15 PM IST

نئی دہلی: حکومت نے 50 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے قرض میں ڈوبی بپلک طیارہ سروس کمپنی ایئر انڈیا کی سرمایہ کشی کی طرف کام تیز کر دیا ہے اور یہ عمل رواں مالی سال میں ہی مکمل ہونے کی امید ہے۔ مرکزی کابینہ نے دو ہفتے پہلے ہی ایئر انڈیا سےسرمایہ کشی کی نظریاتی طور پر منظوری دے دی تھی۔ اس کے لئے وزراء کی ایک ورکنگ گروپ تشکیل دی جانی تھی جس کی نگرانی میں سرمایہ کشی کام ہونا ہے۔ ورکنگ گروپ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کتنی سرمایہ کشی کی جائے گی، کس طرح کی جائے گا اور کب کی جائے گی ۔ شہری ہوا بازی کی وزارت کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت والے ورکنگ گروپ میں شہری ہوا بازی کے وزیر اشوک گجپتی راجو، روڈ ٹرانسپورٹ اور شیپنگ کے وزیر نتن گڈکری، ریلوے کے وزیر سریش پربھو اور توانائی کے وزیر پیوش گوئل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی پہلی میٹنگ جلد ہی بلائی جائے گی۔

وزارت کے ایک دیگر سینئر افسر نے کہا کہ سرمایہ کشی کا عمل رواں مالی سال میں ہی پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ حکومت سوفیصد سرمایہ کشی کے حق میں نہیں ہے اور شاید وہ کنٹرولر حصہ دار بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے کام ہیں جن کے لئے حکومت کے کنٹرول میں ایک ہوائی جہاز سروس کمپنی ہونی چاہیے۔ مثلا کبھی بیرون ملک ہمارے شہری پھنس جاتے ہیں ،تو انہیں وہاں سے نکالنے کا کام نجی طیارے سروس کمپنیاں نہیں کرتیں۔ یہ کام ایئر انڈیا ہی کرتی ہے۔ افسر نے کہا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں سرکاری جہاز سروس کمپنی ہے۔ شہری ہوا بازی کے وزیر مملکت جینت سنہا نے ایئر انڈیا کی سرمایہ کشی کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے سے انکار کر دیا، لیکن اتنا ضرور کہا کہ حکومت اس سمت میں کافی تیزی سے کام کر رہی ہے۔

رواں مالی سال میں ہی ایئر انڈیا سے سرمایہ کشی کی تیاری، کارروائی تیز ، حکومت اپنا سکتی ہے یہ نیا طریقہ

ایئر انڈیا پر اس وقت 52 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے۔ اس میں 22 ہزار کروڑ روپے طیاروں کی خریداری کے لئے لئے گئے ہیں جبکہ باقی رقم آپریشنل اور دیگر اشیاء کے لئے لئے گئے سرمایہ کے طور پر ہے۔ اس کے علاوہ مالی سال08۔ 2007 کے بعد کمپنی ہر سال نقصان اٹھا رہی ہے۔ مالی سال15۔ 2014 میں اسے 5859.91 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا تھا جبکہ16۔ 2015 میں اس نے 3836.77 کروڑ روپے کا نقصان اٹھایا۔ اس کا کل نقصان بھی 55 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایئر انڈیا کی پانچ اکائیوں میں صرف ایئر انڈیا ایئر ٹرانسپورٹ خدمات اور ایئر انڈیا انجینئرنگ سروسز ہی منافع کما رہی ہے۔ ایئر انڈیا چارٹرڈ لمیٹڈ، ایئر لائن الائڈ سروسز لمیٹڈ اور ہوٹل کارپوریشن آف انڈیا خسارے میں چل رہی ہے۔

مقامی مارکیٹ میں مسافروں کی تعداد کے مطابق 40 فیصد سے زائد کی حصہ داری رکھنے والی انڈیگو نے ایئر انڈیا کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن وہ صرف بین الاقوامی آپریشنل اور چھوٹے اور درمیانے شہروں کے لئے خدمات دینے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کے حصول کا خواہاں ہے۔ وہ بھی ان کی خدمات اسی وقت خریدنا چا ہے گی جب حکومت ان سے خود کو بالکل الگ کر لے۔ سرمایہ کشی میں اصل مسئلہ ایئر لائنز کے قرض کا آ رہا ہے۔ کوئی بھی خریدار قرض کا بوجھ اپنے سر پر نہیں لینا چاہے گا۔

حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ایئر انڈیا کےاثاثوں کو بیچ کر جتنا ممکن ہو قرض کا بوجھ کم کیا جائے۔ اس کے بعد کچھ سرمایہ حکومت اپنی طرف سے بھی لگا سکتی ہے۔ ایئر انڈیا میں سرمایہ کاروں کے لئے واحد دلچسپی اس کے پاس دستیاب روٹ اور سلاٹ ہیں۔ سرکاری جہاز سروس کمپنی ہونے کی وجہ سے دنیا کے تمام مصروف ترین ہوائی اڈوں پر بھی اسے اچھا سلاٹ ملے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ان شہروں تک اس کا نیٹ ورک ہے جہاں دوسری ہوائی جہاز سروس کمپنیوں کے لئے داخلہ مشکل ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز