بی جے پی انتخابی حکمت سازوں کا اعتراف ، وسیع تر اپوزیشن اتحاد بی جے پی اور اس کے حلیفوں کیلئے خطرہ

Apr 23, 2017 02:15 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 02:15 PM IST

نئی دہلی : بی جے پی کے انتخابی حکمت سازوں کا خیال ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے جہاں بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں میں 109 سیٹیں جیتی تھیں وہیں 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں یہ تعداد گھٹ سکتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں میں بڑے پیمانے پر بی جے پی مخالف اتحاد کی باتوں خاص طور پر علاقائی طاقتوں میں بڑھتے ہوئے اتحاد کے پیش نظر بی جے پی کے انتخابی حکمت سازوں کا خیال ہے کہ بی جے پی نے 2019 کے رخ پر جو پرجوش انتخابی قدم بڑھارکھا ہے، وہ محض سیاسی حوصلے کا نہیں بلکہ سیاسی مجبوریوں کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے حلیفوں کو وسیع تر اپوزیشن اتحاد سے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ اس وسیع تر اتحاد کی سوچ میں ممتا بنرجی جیسی رہنماؤں کا ذہن کارفرماں ہے۔

مزید برآں بی جے پی کے حکمت سازوں نے یہ بھی ادراک کیا ہے کہ اگرچہ پارٹی نے اترپردیش جیسی اہم ریاست میں 325 سیٹیں جیت لی ہیں، سچ تو یہ ہے کہ مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کی بھی ووٹوں میں حصے داری نہیں بدلی۔ اس لئے ملک کی اس سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں مستقبل قریب میں سیاسی اور انتخابی محاذ پر نہایت موثر طریقے سے کام کرنا ہوگا۔ یو پی کے ایک سینئر بی جے پی لیڈر کے مطابق لوک سبھا انتخابات میں کئی سیٹوں پر ووٹروں میں حکومت بیداری کا جذبہ کام کرتا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف حوصلے سے بات نہیں بنے گی بلکہ بنیادی سطح پر بہت پہلے سے سخت محنت شروع کرنی ہوگی۔

بی جے پی انتخابی حکمت سازوں کا اعتراف ، وسیع تر اپوزیشن اتحاد بی جے پی اور اس کے حلیفوں کیلئے خطرہ

علامتی تصویر

بی جے پی چونکہ کئی وسطی، مغربی اور شمالی ریاستوں میں برسراقتدار ہے اس لئے حکومت بیداری کی تلوار دودھاری بھی بن سکتی ہے جس کی ایک دھار پارٹی کے پارلیمانی اراکین کو اور دوسری دھار متعلقہ ریاستی حکومتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بدترین شکست کا سامنا کرنے کے باوجود اترپردیش میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی واحد پارٹی ہے جس کے ووٹوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کو 22 اعشاریہ 2 فیصد ووٹ ملے جو 2014 کے مقابلے میں 2 اعشاریہ 43 فیصد زیادہ ہے۔ بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح 2014 کی طرح 41 اعشاریہ 4 فیصد کے آس پاس ہی رہی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مایاوتی کو سیاسی بساط پر حرف غلط نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پارٹی لیڈران سمجھتے ہیں کہ انہیں مغربی بنگال اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح ہے کہ اس رخ پر تیز کی جانے والی کوششیں بی جے پی اور ممتا بنرجی، نوین پٹنایک جیسے لیڈروں کے درمیان تلخی بڑھاسکتی ہے۔ مغربی بنگال میں اگرچہ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی ووٹوں میں حصے داری 17 فیصد تک بڑھ گئی تھی جو 2009 میں 6 فیصد تھی۔باوجودیکہ 2016 کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی ووٹوں کی حصے داری گھٹ کر 10 اعشاریہ 2 فیصد ہوگئی۔ْ اڈیشہ میں ضلع پریشد انتخابات میں بی جے پی کی بہتر کارکردگی نے بہرحال پارٹی کا حوصلہ بڑھایا ہے۔

اس طرح دیکھا جائے تو 2019 میں بی جے پی کا انتخابی گیم پلان یہ ہوگا کی شمال مشرقی ریاستوں ، مغربی بنگال، اڈیشہ کے علاوہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سیٹوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائیں تاکہ حکومت بیزاری سے ہونے والے خسارے کا ازالہ کیا جاسکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز