اپوزیشن کے واک آوٹ کے درمیان جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جی ایس ٹی بل منظور

Jul 07, 2017 04:23 PM IST | Updated on: Jul 07, 2017 04:23 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کے روز اپوزیشن جماعت کانگریس اراکین کے واک آوٹ کے بیچ اشیاء وخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) بل کو صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے ریاستی عوام کے احساسات اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے خلاف بطور احتجاج ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔

یکساں ٹیکس سے متعلق جی ایس ٹی قانون جس کا نفاذ ملک کے باقی حصوں میں یکم جولائی کو عمل میں آیا، اب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو ریاست جموں وکشمیر میں نافذالعمل ہوگا۔ ریاستی وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے قانون ساز اسمبلی میں جی ایس ٹی بل کو منظوری دیے جانے سے قبل اپنی تقریر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے اس موقع پر صدارتی حکم نامے اور ٹیکس بل میں شامل کردہ تحفظات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر درابو نے صدارتی حکم نامہ پڑھنے کے بعد بل کو ووٹنگ کے لئے پیش کیا۔ جی ایس ٹی بل کو بعدازاں اپوزیشن کانگریس پارٹی کے اراکین کے بائیکاٹ کے بیچ صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔

اپوزیشن کے واک آوٹ کے درمیان جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جی ایس ٹی بل منظور

وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاست میں جی ایس ٹی قانون امکانی طور پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے نافذ ہوگا۔ جی ایس ٹی بل کی منظوری کے بعد اسپیکر کویندر گپتا نے ایوان کی کاروائی غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔ اس سے قبل ایوان میں موجود سبھی اپوزیشن اراکین نے ریاست میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ ریاست میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے لئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیاگیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز