جی ایس ٹی بل لوک سبھا میں منظور، وزیر اعظم نے دی مبارکباد ، کانگریس نے کہا : ٹیکس سسٹم ہوسکتا ہےتباہ

Mar 29, 2017 09:52 PM IST | Updated on: Mar 29, 2017 09:52 PM IST

نئی دہلی: ملک كو ایک بازار کے طور پر پرونے اور اب تک کے سب سے بڑے بالواسطہ ٹیکس اصلاحات کے لئے سنگ میل مانے جا رہے گڈس اینڈ سروس ٹیکس(جی ایس ٹی) سے منسلک چار بل کو لوک سبھا نے آج صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا۔ حکومت نے جی ایس ٹی کو اس سال یکم جولائی سے لاگو کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

چار بل - سنٹرل جی ایس ٹی بل، انٹگریٹیڈجی ایس ٹی بل، یونین ٹیری ٹاری جی ایس ٹی بل اور جی ایس ٹی (ریاستوں کو معاوضہ) دینے سے متعلق بل - پر ایوان میں دن بھر جاری رہی بحث کے بعد اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ ان کے قانون بننے سے پورا ملک ایک مارکیٹ کے طور پر تشکیل پا جائے گا اور اشیاء کی بے خوف و خطر آمدورفت یقینی ہو سکے گی اور ایک سادہ نظام کا اطلاق ہو گا جس کا خلاف ورزی کرنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن کے چند ارکان کی اس خدشہ کو عبث بتایا کہ جی ایس ٹی کونسل کو ٹیکس کی شرح مقرر کرنے کا حق دینے سے اس معاملے میں پارلیمنٹ کی خودمختاری ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کونسل کا کام صرف سفارش کرنا ہے جبکہ سفارشات پر عمل کے لئے قانون پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں ہی بنا ئیں گي۔

جی ایس ٹی بل لوک سبھا میں منظور، وزیر اعظم نے دی مبارکباد ، کانگریس نے کہا : ٹیکس سسٹم ہوسکتا ہےتباہ

جی ایس ٹی میں ٹیکس کے چار سلیب مقرر کئے گئے ہیں۔ پہلا سلیب صفر فیصد ہے جس میں بنیادی طور پر غذائی اجناس اور دیگر ضروری اشیاء کو رکھا جائے گا۔ دوسرا سلیب پانچ فیصد کا ہے۔ معیاری سلیب کو 12 اور 18 فیصد تک رکھے گئے ہیں جبکہ چوتھا سلیب 28 فیصد کا ہے۔ جن اشیاء پر اب 28 فیصد سے زیادہ ٹیکس ہے اس کا اس سے اوپر کا حصہ سیس کے طور پر جمع کر کے ریاستوں کے نقصانات کی تلافی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے بعد بھی اگر کچھ رقم بچے گی تو وہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔ سنٹرل جی ایس ٹی بل میں زیادہ سے زیادہ 40 فیصد مختص رکھا گیا ہے۔

مسٹر جیٹلی نے بتایا کہ کس چیز کو کس سلیب میں رکھنا ہے اس پر جی ایس ٹی کونسل آئندہ ماہ سے کام شروع کر دے گی۔ شراب کو بل کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات بل کے دائرے میں ہیں، لیکن ان پر جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس لگانا کب سے شروع کرنا ہے اس کے بارے میں فیصلہ جی ایس ٹی کونسل کو بعد میں کرنا ہے۔ ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ کو بھی جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے پر بحث ہوئی تھی مگر ریاستی حکومتوں نے اسٹامپ ڈیوٹی سے ہونے والے ریوینیوکے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم، دہلی حکومت اس کے حق میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل میں یہ اتفاق تھا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے ایک سال کے اندر اندر اس پر نظر ثانی کریں گے۔

دریں اثنا وزیر اعظم مودی نے جی ایس ٹی بل سمیت متعلقہ تین بل کی منظوری پر ملک کے باشندگان کو آج مبارکباد پیش کی اور کہا کہ نئے سال میں نئے قانون سے ہندوستان کی تعمیرنو کریں گے۔ مسٹر مودی نے لوک سبھا میں جی ایس ٹی بل کی منظوری کے بعد ٹویٹر پربھیجے اپنے پیغام میں کہا کہ جی ایس ٹی بل پاس ہونے پر تمام ہم وطنوں کو مبارکباد۔ نیا سال، نیا قانون، نیا ہندوستان! ۔

پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ آج سال نو کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے جدید ٹیکس طریقہ کار كو اختیار کیا ہے۔ اس سے 'ایک ملک - ایک ٹیکس کا خواب پورا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی بل ریاستوں سے مشاورت کے بعد ہی ان کی رضامندی سے تیار کیا گیا ہے۔ اس لئے اسے تمام ریاستی اسمبلیوں میں جلد ہی منظور ہو جانے کی امید ہے۔

کانگریس کے ایم ویرپا موئلی نے کہا کہ اس بل کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف خطرات ہیں۔ ملک کا ٹیکس سسٹم تباہ ہوسکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز