یکم اپریل نہیں بلکہ یکم جولائی سےنافذ ہوگا جی ایس ٹی : ارون جیٹلی

Jan 16, 2017 08:54 PM IST | Updated on: Jan 16, 2017 08:54 PM IST

نئی دہلی: اشیا اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تحت مرکز اور ریاستوں کی ڈبل کنٹرول پر فیصلہ ہونے کے ساتھ ہی اسے یکم جولائی 2017 سے نافذ کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت میں آج یہاں جی ایس ٹی کونسل کی نویں میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد مسٹر جیٹلی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ کونسل کی اگلی میٹنگ اب 18 فروری کو ہوگی جس میں جی ایس ٹی سے منسلک قوانین فارمیٹس کو حتمی شکل دی جائے گی اور جی ایس ٹی یکم جولائی 2017 سے نافذ ہوگا ۔ پہلے اسے یکم اپریل 2017 سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں ڈبل کنٹرول اور كراس امپاورمینٹ پر فیصلہ ہو گیا ہے۔ مکمل ٹیکسیشن کی بنیاد مرکز اور ریاست مل کر شیئر کریں گے اور ڈیڑھ کروڑ روپے تک کے کاروبار والے کاروباریوں میں سے 90 فیصد کا اندازہ ریاست اور 10 فیصد کا مرکز کرے گا۔ ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ کا سالانہ کاروبار کرنے والے تاجروں میں سے 50-50 فیصد مرکز اور ریاست دونوں کی تخمینہ کے علاقے میں رہیں گے۔

یکم اپریل نہیں بلکہ یکم جولائی سےنافذ ہوگا جی ایس ٹی  : ارون جیٹلی

انہوں نے کہا کہ ریاست 12 سمندری میل تک پانی میں ہونے والی اقتصادی سرگرمیوں پر ٹیکس لگا سکیں گے۔ ضم جی ایس ٹی ٹیکس لگانے اور وصول کی طاقت مرکز کے پاس رہے گی، لیکن خاص دفعات کے تحت ریاستوں کے پاس یہ حق حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے وزیر خزانہ امت مترا کو چھوڑ کر اجلاس میں موجود تمام وزیر خزانہ 1.5 کروڑ روپے تک کے کاروباریوں کے اندازے کی تجویز پر متفق تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز