گجرات اسمبلی انتخابات : بی جے پی کی جیت کی پانچ بڑی وجہیں ، جس نے کانگریس کا بگاڑ دیا کھیل

گجرات میں بی جے پی نے لگاتار چھٹی مرتبہ اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے اور کانگریس کو پٹخنی دیدی ہے ۔

Dec 18, 2017 05:01 PM IST | Updated on: Dec 18, 2017 05:03 PM IST

نئی دہلی : گجرات میں بی جے پی نے لگاتار چھٹی مرتبہ اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے اور کانگریس کو پٹخنی دیدی ہے ۔ گرچہ ا س مرتبہ کانگریس کیلئے اچھا موقع تھا کہ وہ ریاست میں 22 سالوں کے بنواس کو ختم کرسکے ، مگر وہ اس میں پوری طرح ناکام رہی ۔ جبکہ بی جے پی نے وزیر اعظم مودی کی لہر کا ایک مرتبہ پھر فائدہ اٹھایا اور کانٹے کی ٹکر کے مقابلہ میں کانگریس کو مات دیدی ۔

بی جے پی کی اس جیت کے پیچھے جہاں مودی لہر تھی وہیں بی جے پی صدر امت شاہ کی سیاسی حکمت عملی بھی کار فرما تھی ۔ آئیے ہم بتاتے ہیں آپ کو بی جے پی کی جیت کی پانچ اہم وجوہات ؟۔

گجرات اسمبلی انتخابات : بی جے پی کی جیت کی پانچ بڑی وجہیں ، جس نے کانگریس کا بگاڑ دیا کھیل

مودی میجک کا کمال

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فی الحال بی جے پی کے کھیونہار صرف اور صرف وزیر اعظم مودی ہی ہیں اور ان کی ہی شخصیت کی وجہ سے بی جے پی ریاست در ریاست انتخابات جیتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات میں بھی الیکشن سے پہلے بی جے پی کو لے کر عوام میں جو ناراضگی تھی وہ وزیر اعظم مودی کی ریلیوں کے بعد رفتہ رفتہ کم ہوتی ہوئی نظر آئیں ۔ جب تک مودی میدان میں نہیں تھے ، اس وقت تک بی جے پی کانگریس سے کافی پچھڑتی ہوئی نظر آرہی تھی ، مگر جیسے ہی وزیر اعظم انتخابی میدان میں کودے چیزیں تبدیل ہوتی چلی گئیں اور بی جے پی ایک مرتبہ پھر ریاست میں اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوگئی۔

Loading...

کانگریس اور راہل گاندھی پر لگاتار حملے

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس انتخابات میں ترقی کا مدعا پوری طرح سے غائب رہا اور وکاس کا دم بھرنے والی بی جے پی اور وزیر اعظم مودی اس سے کنی کاٹتے نظر آئے ۔ اگر کچھ جگہوں کو چھوڑ دیں تو وزیر اعظم مودی سمیت بی جے پی کا کوئی بھی لیڈر کہیں بھی وکاس کے معاملہ پر بولتا ہوا نظر نہیں آیا ۔ اس کے برعکس بی جے پی نے اپنی حکمت عملی کے تحت کانگریس اور راہل گاندھی پر نشانہ سادھنا شروع کردیا ، جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئی ۔ وزیر اعظم مودی پوری انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی اور کانگریس فیملی پر تیکھے حملے کرتے ہوئے نظر آئے ۔ یہی نہیں بی جے پی کے چھوٹے چھوٹے لیدروں نے بھی راہل پر شخصی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا ۔وزیر اعظم مودی کی تقریر کے آغاز اور انتہا دونوں میں راہل گاندھی پر تیکھے حملے ہوا کرتے تھے ، جس کی وجہ سے گجرات میں راہل کی جو شبیہ بننی چاہئے تھی وہ نہیں بن پائی اور اس کا بی جے پی کو پورا فائدہ ملا ۔

منی شنکر ائیر کا بیان بی جے پی کیلئے سنجیونی

یوں تو گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے کئی فیکٹر ہیں ، مگر منی شنکر ائیر کا بیان وزیر اعظم کیلئے کسی کی سنجیونی سے کم نہیں تھا ، جس کو وزیر اعظم مودی خود بھی جانتے تھے ۔ یہی وجہ سے ہی ائیر کا بیان آتے ہی وزیر اعظم مودی اور بی جے پی نے اس کو بھنانا شروع کردیا اور انتخابی ریلیوں میں اس کو اپنا ہتھیار بنالیا اور دوسرے مرحلہ کی پولنگ میں اس کا بھرپور فائدہ بھی ملا ۔ وزیر اعظم مودی ، صدر امت شاہ اور بی جے پی نے اس کو گجرات کی بے عزتی قرار دے کر لوگوں کو اپنی حق میں کر لیا ۔

راہل گاندھی کا ہندتو ، جنیئو اور مندر کا دورہ

گجرات الیکشن میں راہل گاندھی کا ہندتو پریم بھی صاف دیکھنے کو ملا ۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم کے شروع ہوتے ہی راہل گاندھی مندروں کے چکر کاٹتے ہوئے نظر آئے ، جس کا راہل کا فائدہ نہیں ملا اور اس کے برعکس نقصان ہی ہوگیا ۔ اس کی بھی وجہ یہی تھی کہ بی جے پی اچانک راہل گاندھی کے مندر پریم کو بھنانے میں کامیاب ہوگئی اور اس کو لے کر راہل پر حملے شروع کردئے ۔ جگہ جگہ جاکر راہل گاندھی کے مندر دورہ کو لے کر حملہ کرنا اور ان کے ہندو ہونے پر سوال اٹھانا وغیرہ سبھی باتیں بی جے پی کے حق میں گئیں ۔ تاہم بی جے پی کو اس وقت مضبوط ہتھیار ہاتھ لگ گیا جب ایک مندر میں راہل گاندھی کا نام غیر ہندو رجسٹر میں لکھا ملا ۔ اس بات کو لے کر بی جے پی نے انتا شدید حملہ شروع کردیا کہ کانگریس کو ثبوت کے ساتھ میدان میں آنا پڑگیا اور راہل گاندھی کوجنیئو ہندو بتانا پڑگیا اور اس کی تصویر بھی دکھانی پڑی ۔ مجموعی طور پر گجرات میں راہل کا مندر پریم ان کیلئے نقصان کا ہی سودہ ثابت ہوا۔

اسٹار کمپینروں کی ٹیم اور امت شاہ کی حکمت عملی

گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے بعد سے بی جے پی جس ریاست میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے ، وہاں امت شاہ کی سیاسی حکمت عملی کار فرما رہی ہے۔ گجرات انتخابات میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملا ۔ کانگریس اقتدار کی کرسی کے آس پاس بھی نہ بھٹکے اس کیلئے بی جے پی نے اپنے اسٹار کمپینروں کی ایک پوری فوج کھڑی کردی ۔ گجرات کے عوام کو بھگوا رنگ میں رنگنے کیلئے مودی ، شاہ ، راجناتھ ، نتن گڈکری ، ارون جیٹلی ، اسمرتی ایرانی ، اوما بھارتی ، کلراج مشرا ، مینکا گاندھی ، رام ولاس پاسوان ، مختار عباس نقوی اور یوگی آدتیہ ناتھ سمیت سبھی سینئر لیڈروں کو میدان میں اتار دیا ۔ ان لیڈروں نے گجرات میں بی جے پی کے حق میں ہوا بنانے کا کام کیا اور پھر جو کسر رہ گئی اس کو آخر میں مودی کی تابڑ توڑ ریلیوں نے پورا کردیا ۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ امت شاہ کی بوتھ لیول پر کارکنوں کو جوڑنے اور ڈور ٹو ڈور کمپین کی پالیسی کا بھی جیت میں اہم رول رہا ۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز