اے بی وی پی کے ترنگا مارچ کے جواب میں آيسا کا احتجاجی مارچ، سیاسی جماعتیں بھی شامل ہوئیں

Feb 28, 2017 11:37 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 11:37 PM IST

نئی دہلی۔  بائیں بازو کی جماعتوں سے منسلک طلبہ تنظیم آيسا نے رامجس کالج میں تشدد کے واقعہ کے لئے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس کے ترنگا یاترا کے جواب میں آج دہلی یونیورسٹی کے احاطے میں احتجاجی مارچ نکالا جبکہ کانگریس سے منسلک اسٹوڈنٹ یونین این ایس یو آئی نے احاطے میں امن بحالی کے لئے علامتی بھوک ہڑتال کی۔ اس درمیان سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی اس معاملے میں کھل کر سامنے آ گئے۔ آيسا کی قیادت میں دہلی یونیورسٹی کے مختلف کالجوں اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سیکڑوں طلباء اور اساتذہ نے خالصہ کالج سے آرٹ فیکلٹی تک مارچ نکالا جو بعد میں جلسہ میں تبدیل ہو گیا۔ مارچ میں بائیں بازو کے لیڈر سیتارام یچوری اور ڈی راجا، جنتا دل (یونائیٹڈ) کے کے سی تیاگی بھی شامل ہوئے جبکہ کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری بھوک ہڑتال کے مقام پر پہنچے۔

آيسا نے اس معاملے پر پانچ مارچ کو منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کا بھی اعلان کیا۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے ملاقات کی اور انہیں ڈی یو میں تشدد کے ذمہ دار،طالبہ گرمهر کور کو دھمکی دینے اور ملک مخالف نعرے لگانے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر قومی انسانی حقوق کمیشن نے رامجس کالج کے باہر مبینہ طور پر پولیس زیادتیوں کے لئے دہلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک کو نوٹس جاری کر کے ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ طلبا نے آرٹس فیکلٹی میں وویکانند کے مجسمے کے سامنے ترنگے کے نیچے جلسہ کیا۔ وہاں ایک سیاہ بینر بھی لگا تھا جس پر 'جسٹس فار ویمولا' لکھا ہوا تھا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا سمیت سینکڑوں طلبہ و طالبات نے اے بی وی پی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ طالب علموں کا کہنا تھا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلکل یہ تنظیم اپنے نظریات کو ملک پر مسلط کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی اس کوشش کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔

اے بی وی پی کے ترنگا مارچ کے جواب میں آيسا کا احتجاجی مارچ، سیاسی جماعتیں بھی شامل ہوئیں

ادھر این ایس یو آئی کے طلبا نے رامجس کالج کے سامنے صبح سے شام تک بھوک ہڑتال کی۔ این ایس یو آئی کے قومی جنرل سکریٹری لینی جادھو نے کیمپس میں بدامنی کے لئے اے بی وی پی اور آيسا دونوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں تشدد نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے بی وی پی اور آيسا میں کوئی اختلاف ہے تو اسے تشدد سے نہیں بلکہ نظریاتی طریقے سے لڑا جانا چاہئے۔

کنہیا نے اپنے طنز آمیز انداز میں اے بی وی پی پر نشانہ لگاتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اقتصادی پالیسیوں، خواتین کی آزادی اور سچر کمیٹی کی رپورٹ پر بحث نہیں کرتی بلکہ مارپیٹ، گالی گلوچ اور تشدد کرتی ہے۔ کنہیا نے سوال کیا کہ عمر خالد کو بولنے کی اجازت نہ دینے کا حق اسے کیسے مل گیا۔ طالب علم رہنما نے کہا کہ اس کے خلاف ملک سے بغاوت کے الزام لگے لیکن ابھی تک پولیس اس معاملے میں الزامات طے تک نہیں کر سکی ہے۔

کنہیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا علامتی جواب دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس بار ہولی زعفرانی ہوگی۔کنہیا نے کہا، '' مودی جی ہم ہر رنگ کی ہولی کھیلتے ہیں اور بالکل ایک رنگ مسلط کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ '' کانگریس لیڈر مسٹر تیواری نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی فاشسٹ سوچ کی وجہ سے دیگر آوازوں کو دبانے کے اپنے نظریات کو پورے طریقے سے مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے مختلف نظریات کے افراداس کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔ مسٹر تیواری نے کہا کہ وہ این ایس یو آئی کے طالب علموں کے تئیں یکجہت ظاہر کرنے کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے پورے کیمپس میں کشیدگی کی بات کو مسترد کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز