نئی حج پالیسی عازمین حج کی امنگوں کی آئینہ دار نہیں: حافظ نوشاد اعظمی

Oct 28, 2017 10:16 AM IST | Updated on: Oct 28, 2017 10:16 AM IST

نئی دہلی۔ مرکزی حج کمیٹی کے سابق رکن حافظ نوشاد احمد اعظمی نے ریاستی حج کمیٹیوں کے ذمہ داران کی میٹنگ کے موقع پر ایک بار پھر نئی حج پالیسیوں پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔ یہ میٹنگ 30 اکتوبر کو ممبئی میں ہو رہی ہے۔ یہاں جاری ایک ریلیز میں انہوں نے کہا کہ امبارکیشن پوائنٹ کم کرنے اور بعض خواتین کو محرم کے بغیر سفر حج کا موقع فراہم کرنے سمیت بیشتر تجاویز پر ہندستانی عازمیں کو اعتراض ہے اور حج کمیٹی آف انڈیا کے ذمہ داران بھی مبینہ ریزرویشن کے ساتھ وزیر امور حج مختار عباس نقوی سے مل چکے ہیں لیکن حکومت چپی سادھے ہوئے ہے جو عازمین میں بے چینی کا سبب ہے۔

مسٹر اعظمی نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ مرکزی حج کمیٹی سے رجوع کرنے کے بعد تمام ریاستی حج کمیٹیوں کو بھی مکتوبات روانہ کر چکے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے سوچ بچار میں اختلافی نکات سامنے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی عازمین بنیادی طور پر حج کمیٹیوں پر ہی بھروسہ کرکے سفر حج کرتے ہیں اور اپنی شکایات کے لئے بھی ریاستی حج کمیٹیوں کو ہی ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ایسے میں ان کمیٹیوں پر لازم ہے کہ وہ حکومت کے کسی ایسے فیصلے سے اتفاق نہ کریں جس میں عازمین کے مفادات اور سہولتوں کا پاس نہیں رکھا گیا ہو۔

نئی حج پالیسی عازمین حج کی امنگوں کی آئینہ دار نہیں: حافظ نوشاد اعظمی

انہوں نے کہا کہ بظاہر نئی حج پالیسی کی نوعیت متنازعہ ہے جو حاجیوں کی امنگوں کی آئینہ دار نہیں لہذا اسے مسترد کردیا جانا چاہئے تاکہ سفر حج کی سہولتوں کا دائرہ عملاً وسیع کرنے کا ایک خاکہ اتفاق رائے سے تیار کیا جائے اور حکومت کے ساتھ اشتراک کا ماحول تیار ہو اختلاف اور ٹکراو کا نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز