امسال حج انتظامات بہترین اور مثالی تھے، سفر حج سے واپسی کے بعد مرکزی حج کمیٹی کے وفد کا دعوی

Sep 18, 2017 10:36 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 10:36 PM IST

نئی دہلی: حج بیت اللہ سے فراغت کے بعد حاجیوں کی اپنے وطن ہندوستان واپسی کا سلسلہ جاری ہے اس درمیان حاجیوں کی مکہ اور مدینہ میں دیکھ بھال کے لئے موجود حج کمیٹی آف انڈیا اور حکومت ہند کا خیر سگالی وفد بھی ہندوستان واپس لوٹ آیاہے۔ حج انتظامات کو لیکر ہر سال حاجیوں کی جانب سے کچھ شکایات ضرور آتی ہیں لیکن اس مرتبہ جدہ سے آنے والی سعودی ایئر لائن کی پروازوں سے آنے والے چند حجاج کرام کو سامان نہ ملنے یا سامان میں سے کچھ اشیاء چوری ہوجانے کی شکایات کے علاوہ انتظامی امور سے متعلق کوئی شکایت ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے جسے حج کمیٹی سے متعلق ذمہ داران وزارت اقلیتی امور ،مرکزی حج کمیٹی اور قونصلیٹ جنرل آف انڈیا کے ذریعہ بہتر حج انتظامات کا نتیجہ قرار د ے رہے ہیں ۔

حال ہی میں 16سعودی سے واپس آئے مرکزی حج کمیٹی کے ممبر اور کمیٹی کے تین رکنی وفد کے رکن عرفان احمد نے دوران حج حاجیوں کے لئے کئے گئے حکومت ہند کے ذریعہ کئے گئے انتظامات پر روشنی دالتے ہوئے حج 2017 کو انتظامی اعتبار سے بہترین حج قرار دیا او دعوی کیا کہ وہاں موجود حج انتظامات کا جائزہ لینے کے علاوہ انہوں نے براہ راست حاجیوں سے گفتگو کی ،ان کے مسائل سنے اور انتظامی امور کا براہ راست مشاہدہ کیا لیکن انھیں انتطامی امور سے متعلق کسی طرح کی کوئی شکایت نہیں ملی اور تمام حجاج کرام حج انتطامات سے مطمئن نظر آئے ۔

امسال حج انتظامات بہترین اور مثالی تھے، سفر حج سے واپسی کے بعد مرکزی حج کمیٹی کے وفد کا دعوی

عرفان احمد کے مطابق مرکزی حج کمیٹی کی جانب سے امسال حج انتطامات کا جائزہ لینے اور دوران حج حاجیوں کی دیکھ بھال اور انتطامی امور کی نگرانی کے لیئے تین رکنی وفد 21روزہ دورہ پر گیا تھاجس میں ان کے علاوہ ڈاکٹر مونس انصاری اور حاجی الیاس حسین شامل تھے ۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاوہ حکومت ہند کی جانب سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر کی قیادت میں بھی ایک خیر سگالی وفد سعودی دورہ پر تھاجس میں ڈپٹی حج لیڈر سید ظفر اسلام بھی شامل تھے۔عرفان احمد نے بتایا کہ وزیر موصوف اور حج لیڈر ایم جے اکبر نے انھیں بھی خیر سگالی وفد میں شامل کرلیا تھا اور اس دوران حج لیڈر کی قیادت میں ہم نے مکہ میں حجاج کرام کی رہائش گاہوں کے علاوہ اسپتال کا دورہ کیا ساتھ ہی مزدلفہ ،منی اور عرفات میں حاجیوں کے خیموں کا بھی مشاہدہ کیا اور حاجیوں سے ان کی پریشانیوں کے متعلق تبادلہ خیال کیاجس میں حاجی حج انتطامات سے مطمئن نظر آئے البتہ بعض حاجیوں نے معلموں کی طرف سے کچھ پریشانیوں کا ذکر کیااور یہ بات سامنے آئی کہ بعض حجاج کرام کو معلم کی فراہمی میں دشواری ہوئی ہے جسے آئندہ سال دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

عرفان احمد نے بتایاکہ ہمارے ساتھ حج انتطامات کا جائزہ لینے کے لئے قونصلیٹ جنرل آف انڈیانور رحمن شیخ،حج کونسل شاہد عالم اور سفیر ہند احمد جاوید بھی ساتھ رہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس مرتبہ گرین زمرہ میں کچن کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13ہزار عازمین حج رہائش پذیر تھے جبکہ ایک لاکھ بارہ ہزار عزیزیہ میں قیام پذیر تھے جہاں سے ٹرانسپورٹ کا بہترین انتظام کیا گیا تھا اور بسیں حجاج کو ڈایریکٹ حدود حرم لاکر چھوڑ تی تھیں جس کی وجہ سے کسی طرح کی کوئی شکایت حجاج سے نہیں ملی ۔انہوں نے کہاکہ مدینہ میں بھی حج

انتظامات کے جائزہ کے دوران کسی طرح کی بد انتطامی کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیااور پورے حج سیزن میں الحمدللہ ہندوستانی حجاج کے ساتھ کسی طرح کے حادثہ کی کوئی خبر اب تک نہیں ہے اس لحاظ سے انتطامی اعتبار سے ی کامیاب ترین حج قرار دیاجاسکتا ہے ۔عرفان احمدکے مطابق مدینہ میں قونصل کی جانب سے حج انچارج سلمان احمد اقلیتی وزارت کے وفد میں شامل جوائنٹ سکریٹری جان عالم اور انڈر سکریٹری محمد ندیم نے بھی پورا تعاون دیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز