سید احمد بخاری نے حج کے معاملہ میں قطر پر سیاست کرنے کا لگایا الزام

Aug 03, 2017 03:36 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 04:25 PM IST

نئی دہلی۔ دہلی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے قطرپرحج کے معاملے میں سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل کے چھ اسلامی ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ قطر پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے اور سعودی عرب کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں اس نے حرمین شریفین کا انتظام کسی عالمی ادارے کے ہاتھوں میں سونپنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مقصد اس معاملے پر عالم اسلام میں انتشار و اختلاف پیدا کرانا اور حج کے سیزن یا عمرہ کے سیزن میں بدانتظامی کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے اس مطالبے کو اپنے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے اور وقت آنے پر کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ شاہی امام نے کہا کہ ماضی میں خادم الحرمین الشریفین ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کی دعوت پر امیر بحرین، امیرقطر، نائب صدرامارات،ولی عہد ابوظہبی خادم الحرمین الشریفین کے پاس جمع ہوئے اورسابقہ معاہدوں پرغورخوض کیاگیا  اور ایک ضمنی معاہدہ بھی عمل میں آیا جس میں بہت ساری شقوں کے علاوہ ایک شق یہ بھی تھی کہ معاہدہ ریاض کی کسی ایک دفعہ یا اس کے نفاذ کے طریقۂ کار کی خلاف ورزی پورے معاہدے کی خلاف ورزی مانی جائے گی۔ اس کے بعد بھی مختلف معاہدے ہوئے، بات چیت ہوئی۔ مگرقطرنے کسی بھی معاہدے پر عمل نہیں کیا اورحکومت سعودی عربیہ کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف رہا۔

مولانا بخاری نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ قطر کی یہ خطرناک سازشیں نئی نہیں ہیں بلکہ تقریبا 20 برسوں سے یہ سلسلہ چل رہا تھا۔ حکومت سعودی عربیہ اور دیگر ممالک ایک عرصے سے صبرسے کام لے رہے تھے۔ قطر کی سازش کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ حرمین شریفین کیلئے خطرہ بن چکا ہے اور وہ مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مسلمان قطعاً یہ نہیں برداشت کرے گاکہ اس پاک سرزمین کو دنیا کا کوئی ملک سیاسی اکھاڑہ بنائے۔ مولانا بخاری نے مزید کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ حکومت سعودی عربیہ جس طرح حرمین شریفین، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمات انجام دیتی رہی ہے اس کا اعتراف ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مسلمانوں کو ہے۔ اوردنیا کا کوئی بھی ملک اس طرح خدمت انجام نہیں دے سکتا، جس طرح آج سعودی حکومت انجام دے رہی ہے۔

سید احمد بخاری نے حج کے معاملہ میں قطر پر سیاست کرنے کا لگایا الزام

مولانا سید احمد بخاری: فائل فوٹو

مولانا نے کہا کہ قطرپر جو الزامات ہیں وہ بے بنیاد نہیں۔ یہ وہی ملک ہے جو دنیا کے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ ان کو ہر طرح کی مدد پہنچاتارہا ہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں میں داعش اور اخوان المسلمین شامل ہیں۔ حیرت تویہ ہے کہ امیر قطرکا سیاسی مشیر عزمی بشارہ اسرائیلی شہری ہے اور وہاں کی پارلیمنٹ کا ممبربھی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ قطر اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ ملاہوا ہے اور ان قوتوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ جو خلیج میں اورخاص کر سعودی عربیہ میں بدامنی کا ماحول پیداکررہے ہیں۔ مولانا بخاری نےکہا کہ سعودی عرب قطر کو معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کی یاد دلاتارہا اور سازشوں کو ختم کرنے پر زوردیتا رہا۔ قطرکو اس کیلئے خاصا وقت دیا گیا مگر وہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آیا۔ بالآخر سعودی عرب سمیت دیگرممالک نے قطرسے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور سمندری اور ہوائی راستوں پر پابندی لگادی۔ چونکہ وہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہا تھا اس لیے یہ فیصلہ بدرجۂ مجبوری کیا گیا۔

مولانا بخاری نے کہا کہ اگر قطر سعودی عرب کے اندورنی معاملات میں مداخلت اور داعش، اخوان المسلمین وغیرہ جیسی تنظیموں کی مدد اور حمایت بند کردے تو مصالحت کے راستے نکل سکتے ہیں۔ لیکن افسوس ایسا لگتا ہے کہ قطر اب بھی مصالحت کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے پڑوسی ممالک اور امت مسلمہ کے ساتھ بہتر تعلقات کو ترجیح نہ دیکر اسلام دشمن طاقتوں سے تعلقات کو قائم رکھنے کو ترجیح دی۔ امیرقطر کو چاہئے کہ وہ ایک بارپھر اپنے رویہ پر غورکریں تاکہ خلیج میں امن وامان کی فضاء قائم ہو۔ اگر قطر چاہتا ہے کہ اس پر عاید پابندیاں ختم ہوں اور جو تعطل پیدا ہوا ہے وہ دور ہو تو اسے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے امت مسلمہ کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز