ملک کے مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس: نائب صدر حامد انصاری

Aug 10, 2017 10:10 AM IST | Updated on: Aug 10, 2017 10:10 AM IST

نئی دہلی۔ نائب صدر حامد انصاری کی دوسری مدت کار جمعرات کو مکمل ہو رہی ہے۔ اس سے ایک دن پہلے انہوں نے ملک میں 'قبولیت کے ماحول' پر خطرہ بتاتے ہوئے کہا، 'ملک کے مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔' انہوں نے بتایا، 'عدم برداشت کا مسئلہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں جب انصاری سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنے خدشات سے وزیر اعظم کو باخبر کرایا ہے، اس پر نائب صدر نے 'ہاں' کہہ کر جواب دیا۔ اگرچہ انہوں نے کہا، نائب صدر اور وزیر اعظم کے درمیان کیا باتیں ہو رہی ہیں، یہ استحقاق والی بات چیت کے دائرے میں ہی رہنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے مرکزی وزراء کے سامنے بھی انہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔

اس انٹرویو میں انصاری نے بھیڑ کی طرف سے لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے واقعات، 'گھر واپسی' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، 'یہ ہندوستانی اقدار کا بے حد کمزور ہو جانا، عام طور پر قانون نافذ کرا پانے میں مختلف سطحوں پر افسران کی اہلیت کا متاثر ہو جانا اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات کسی شہری کی ہندوستانیت پر سوال اٹھایا جانا ہے۔

ملک کے مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس: نائب صدر حامد انصاری

نائب صدر حامد انصاری: گیٹی امیجیز۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی میں ایک طرح کی تشویش ہے اور جس طرح کے بیان ان لوگوں کے خلاف دیے جا رہے ہیں، اس سے وہ غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، اس پر انصاری نے کہا، ' جی ہاں، یہ اندازہ درست ہے، جو میں ملک کے مختلف حلقوں سے سنتا ہوں۔ میں اس بارے میں شمالی ہند میں زیادہ سنتا ہوں۔ لوگوں میں بے چینی کا احساس ہے اور عدم تحفظ کا احساس گھر کر رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز