آبروریزی کے قصوروار گرمیت رام رحیم کو جیل میں خصوصی سہولیات دئے جانے کی ڈی جی پی نے کی تردید

Aug 26, 2017 12:23 PM IST | Updated on: Aug 26, 2017 12:25 PM IST

چنڈی گڑھ : ہریانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (جیل) کے پی سنگھ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ عصمت دری کے قصوروار گرمیت رام رحیم کو جیل میں خصوصی سہولیات دی گئی ہیں۔ مسٹر سنگھ نے آج بتایا کہ رام رحیم کو کسی گیسٹ ہاوس میں نہیں رکھا گیا ہے بلکہ روہتک کی سوناریا جیل میں رکھا گیا ہے۔ میڈیا کے ایک حلقہ میں اس طرح کی خبریں آئی تھیں کہ رام رحیم کو جیل میں خصوصی سہولیات دستیاب کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ رام رحیم ایک معمول کے قیدی کی طرح جیل میں رکھا گیا ہے اور انہیں وہی سہولیات دی جارہی ہیں جو ایک عام آدمی قیدی کو ملتی ہیں۔ رام رحیم کو کوئی مددگار نہیں دیا گیا ہے اور جس کمرے میں انہیں رکھا گیا ہے اس کمرے میں اے سی بھی نہیں لگا ہے۔

خیال رہے کہ پنچکولہ کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت نے کل انہیں سادھو عصمت دری معاملے میں قصوروار ٹھہرایا تھا جس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر سے روہتک لایا گیا ۔ رام رحیم کو 28اگست کو سزا سنائی جائے گی۔ انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعدکل ان کے حامیوں نے جو زبردست تشدد کیا تھا اس کے پیش نظر امید کی جارہی ہے کہ رام رحیم کو سزاکے بارے میں اطلاع ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ یا جیل میں ہی خصوصی عدالت لگاکر سنائی جاسکتی ہے۔

آبروریزی کے قصوروار گرمیت رام رحیم کو جیل میں خصوصی سہولیات دئے جانے کی ڈی جی پی نے کی تردید

سی بی آئی عدالت نے رام رحیم کوتعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 376(عصمت دری) ، 506 (ڈرانے دھمکانے) اور 509 (خاتون کی عزت سے کھلواڑ) کے تحت قصوروار ٹھہرایا ہے ۔ رام رحیم کو کم از کم سات برس قیدبامشقت کی سزا ہونی طے ہے۔ نربھیا معاملہ کے بعد پاس کئے گئے فوجداری قانون (ترمیم) ایکٹ 2013 کے تحت عصمت دری کے ملزمین کو کم از کم سات برس بامشقت قید اور زیادہ سے زیادہ عمرقید اور جرمانہ لگانے کا التزام ہے۔

آئی پی سی کی دفعہ 506کے تحت زیادہ سے زیادہ دو برس جیل یا جرمانہ یا دونوں کا التزام ہے۔ 2013میں کی گئی ترمیم کے مطابق دفعہ 509کے تحت زیادہ سے زیادہ تین برس کی عام سزا اور جرمانہ کا التزام کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس دفعہ کے تحت ایک برس کی عام قیدیا جرمانہ یا دونوں کی گنجائش تھی۔

نئی ترمیم میں کچھ ایسے ا لتزامات بھی کئے گئے ہیں جن کے تحت عصمت دری کے ملزم کو کم از کم دس برس بامشقت جیل اور زیادہ سے زیادہ عمرقید کی گنجائش ہے۔ ان میں پولیس افسروں کے ذریعہ عصمت دری، حراست میں عصمت دری، بار بار عصمت دری، کسی ٹرسٹ اور ادارہ کے سربراہ کے ذریعہ وہاں رہنے والی خواتین کی عصمت دری وغیرہ شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز