یروشلم تنازع : 22 دسمبر کو یوم دعا کے طور پر منانے اور ملک گیر پر امن احتجاج کرنے کی جمعیت علماء ہند کی اپیل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے القدس منتقلی کرنے اور القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے حالیہ فیصلہ سے پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر پائی جارہی

Dec 21, 2017 04:56 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 04:57 PM IST

نوح  : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے القدس منتقلی کرنے اور القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے حالیہ فیصلہ سے پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر پائی جارہی اور اس کی شدید تنقید کی جارہی ہے۔ مولانا سید محمود مدنی نے بالکل صحیح کہا کہ صہیونی طاقتیں ہمیشہ سے یہ سازش کرتی رہی ہیں کہ مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصی کو نیست ونابود کر کے اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل کو پہنچائیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء ہریانہ پنجاب و ہماچل اور چندی گڑھ کے صدر مولانا یحییٰ کریمی نے آئندہ 22 دسمبر کو جمعیت علماء ہند کی جانب سے ملکی سطح پر منعقد ہونے والا یوم دعا و پرامن احتجاج کے سلسلے میں گفتگو کے ضمن میں کیا۔

مولانا کریمی نے مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ اللہ تعالیٰ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر خوب تضرع اور گریہ زاری کے ساتھ مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے دعائیں کریں اور ساتھ ہی ساتھ پرامن احتجاج میں شریک ہوکر اپنی ناراضگی کا اظہار کرکے حکومت ہند کو بھی یہ پیغام دیں کہ وہ امریکہ کے اس عیارانہ اور شاطرانہ چال کی مذت کرے۔

یروشلم تنازع : 22 دسمبر کو یوم دعا کے طور پر منانے اور ملک گیر پر امن احتجاج کرنے کی جمعیت علماء ہند کی اپیل

جمعیت علماء ہریانہ پنجاب و ہماچل اور چندی گڑھ کے صدر مولانا یحییٰ کریمی

مولانا محمد یحییٰ کریمی نے مزید کہا کہ امریکہ نے سفارتخانہ منتقل کرنے کے اپنے حالیہ فیصلہ کے ذریعہ اسرائیل کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہیں آسان کرنے کی کوشش ہے ، جسے دنیا کا کوئی بھی مسلمان کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرسکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز