ہریانہ کے وزیر انل وج نے کہا : ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا، دگوجے نے کہا : سنگھی دہشت گرد ہوتا ہے

Jun 21, 2017 10:28 PM IST | Updated on: Jun 21, 2017 10:28 PM IST

نئی دہلی : اپنے بیانات کو لے کر اکثر و بیشتر تنازعات میں رہنے والے ہریانہ کے کابینہ وزیر انل وج ایک بار پھر اپنے بیان کی وجہ سے موضوع بحث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا اور ہندو دہشت گردی جیسی کوئی ٹرم نہیں ہوتی ہے۔

وج نے کہا کہ 'پاکستان کے جو افراد پکڑے گئے انہیں چھوڑ دیا گیا اور ہندوستان کے لوگوں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا اور اسے ہندو دہشت گردی کا نام دیدیا گیا۔ یہ کانگریس حکومت کا کھیل تھا اور حکومت کے ہی اشارے پر پاکستانیوں کو چھوڑا گیا ہوگا۔ اب وہ تو پاکستان میں عیش کر رہے ہیں۔ تفتیش چل رہی ہے اور وہ سمن کا جواب بھی نہیں دے رہے ہیں

ہریانہ کے وزیر انل وج نے کہا : ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا، دگوجے نے کہا : سنگھی دہشت گرد ہوتا ہے

انل وج نے مزید کہا کہ 'یہ سیاسی پلاٹنگ تھی ، جسے اسٹبلش کرنا تھا کہ ہندو دہشت گرد ہے۔ ایک ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا، ہندو دہشت گردی جیسی کوئی ٹرم نہیں ہوتی، اگر ہندو دہشت گرد ہوتا تو آج پوری دنیا میں دہشت گردی نہیں ہوتی ، ختم ہو گئی ہوتی ، مگر سیاسی وجوہات کی وجہسے کانگریس حکومت نے جتنے بھی دہشت گردانہ حملے ہوئے ان میں مسلمانوں کے شامل ہونے کی وجہ سے ہندو دہشت گردی کو کھڑا کرنا چاہتی تھی اس لئے یہ پورا کھیل کھیلا گیا۔ '

ادھر انل وج کے اس بیان پر کانگریس کے لیڈر دگ وجے سنگھ نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وج نے صحیح کہا کیونکہ سنگھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ سنگھ نے کہا کہ 'انہوں نے (وج) صحیح فرمایا ہے۔ سنگھی دہشت گرد ہوتے ہیں ، ہندو دہشت گرد کبھی نہیں ہوتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز