سپریم کورٹ میں 23 برسوں سے جیل میں مقید ملزمین کی پیرول پر رہائی کی عرضی پر سماعت شروع

Jul 06, 2017 07:36 PM IST | Updated on: Jul 06, 2017 07:36 PM IST

ممبئی: 1993جے پور سلسلہ وار ٹرین بم دھماکہ معاملے میں مجرم قرارد یئے گئے ایک ملزم کی پیرول پر رہائی کیلئے جمعیت علماء کے توسط سے سپریم کورٹ میں داخل عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے آج عدالت نے حکومت ہند سمیت حکومت راجستھان اور پیرول رہائی ڈیپارٹمنٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ گذشتہ 23 برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے اشفاق عبدالعزیز کی پیرول پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ رتنا کر داس نے دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کو بتایا کہ ٹاڈا قانون میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے کہ ٹاڈا قانون کے تحت سزا پانے والے مجرمین کو پیرول کی سہولت سے محروم رکھا جائے گا بلکہ ہندوستانی آئین کے مطابق ہر مجرم کو پیرول کی سہولت دیئے جانے کی وکالت کی گئی ہے چاہئے اس کا جرم کتنا ہی سنگین ہو۔

سپریم کورٹ میں 23 برسوں سے جیل میں مقید ملزمین کی پیرول پر رہائی کی عرضی پر سماعت شروع

ایڈوکیٹ رتناکر داس نے عدالت کو بتایا کہ اشفاق احمد عبدالعزیز گذشتہ 17 برسوں سے اس کی فیلی اور دیگر رشتہ داروں سے ملا نہیں ہے اور وہ 23برسوں سے جیل میں مقید ہے نیز اسے 17 سال قبل چار مرتبہ مختلف مواقع پر چند دنوں کے لئے عارضی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جس کے دوران وہ ایسی کوئی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اگر اشفاق کو پیرول پر رہا کیا گیا تو اس کی رہائی سے نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اس کے باوجود ضلعی پیرول ایڈوائزی ، جئے پور جیل سپرنٹنڈنٹ اور جئے پور ہائی کورٹ نے عرض گذار کو پیرول پر رہا کرنے سے منع کردیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز