تین طلاق مقدمہ : سپریم کورٹ ان معاملات پرکررہا ہے سماعت ، پڑھئے عرضی گزار مسلم خواتین کے کیا کیا ہیں مطالبات

May 11, 2017 06:20 PM IST | Updated on: May 11, 2017 07:58 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج واضح کر دیا کہ وہ مسلمانوں میں رائج طلاق بدعت(تین مرتبہ طلاق کہنے)اور حلالہ کی آئینی موزونیت پر ہی سماعت کرے گا،تعدد ازدواج پرفی الوقت غور نہیں کیا جائے گا۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ میں کیس کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔ سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس معاملے پر سماعت کرے گا کہ طلاق بدعت اسلام کا اصل حصہ ہے یا نہیں؟ سماعت کے دوران سائرہ کے وکیل نے کہا کہ تین طلاق مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ کسی مذہب کا لازمی حصہ وہ ہوتا ہے، جس کے حذف ہونے سے اس مذہب کی شکل ہی تبدیل ہو جائے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالسٹر جنرل پنکی آنند نے دلیل دی کہ حکومت درخواست گزار کی اس دلیل کی حمایت کرتی ہے کہ تین طلاق غیر آئینی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اسے ختم کر چکے ہیں اور اسے ہندوستان میں بھی ختم کیا جانا چاہئے۔ جسٹس نریمن نے کہا کہ تین طلاق کے معاملے کی آئینی و قانونی حیثیت کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار میں تین طلاق کے معاملے میں سماعت ہوگی، لیکن تین ماہ کے وقفے پر دی گئی طلاق پر غور نہیں کیا جائے گا۔عدالت عظمی نے عرضی گزاروں اور مدعا علیہان کے وکلاء کو آگاہ کر دیا کہ وہ کسی ایک ہی نکتہ کا بار بار اعادہ نہ کریں ۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں روک دیا جائے گا۔ عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی جاننا چاہا کہ مسلم پرسنل لا کیا ہے؟ یہ شریعت ہے یا کچھ اور؟ ۔

تین طلاق مقدمہ : سپریم کورٹ ان معاملات پرکررہا ہے سماعت ، پڑھئے عرضی گزار مسلم خواتین کے کیا کیا ہیں مطالبات

file photo

سائرہ بانو

مارچ 2016 میں اتراکھنڈ کی سائرہ بانو نام کی خاتون نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے تین طلاق، نکاح حلالہ اور متعدد شادیوں (تعدد ازدواج) کی شرعی حیثیت کو غیر آئینی قراردئے جانے کی مانگ کی تھی۔ سائرہ بانو نے مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلی کیشنز قانون 1937 کی دفعہ دو کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ اپنی درخواست میں سائرہ نے کہا ہے کہ مسلم خواتین کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان پر طلاق کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ وہیں شوہر کے پاس ناقابل تردید طور پر لامحدود اختیارات ہوتے ہیں۔یہ امتیاز اور عدم مساوات یکطرفہ طور پرتین طلاق کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔

آفرین رحمن

جے پور کی آفرین رحمن نے بھی عرضی داخل کی ہے۔میٹرومونیئل ویب سائٹ کے ذریعے سے شادی کرنے والی آفرين کو اس کے شوہر نے اسپیڈ پوسٹ سے طلاق کا خط بھیجا تھا۔ انہوں نے بھی 'تین طلاق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عشرت جہاں

مغربی بنگال کے ہاوڑا کی عشرت جہاں نے بھی تین طلاق کو غیر آئینی اور مسلم خواتین کے باوقار زندگی گزارنے کے حق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عشرت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس کے شوہر نے دبئی سے ہی فون پر اسے طلاق دے دی اور اس کے چاروں بچوں کو زبردستی چھین لیا۔ اتنا ہی نہیں اس کے شوہر نے دوسری شادی بھی کر لی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز