ہندی ادیبوں کا بڑا بیان : مغل دور میں ہی سب سے زیادہ پروان چڑھا ہندی ادب ، اظہار خیالات کی تھی پوری آزادی

Nov 01, 2017 11:51 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 11:51 PM IST

الہ آباد :  مغل دور حکومت میں شاعروں اور ادیبوں کو آج سے زیادہ آزادی حاصل تھی ۔ ہندی کے  زیادہ تر بڑے شاعر مغل دورحکومت میں ہی پروان چڑھے اور انہوں نے ہندی ادب کو بلندیوں تک پہنچایا ۔ ان خیالات کا اظہار الہ آباد میں منعقد ہونے والے ہندی ادیبوں کے ایک روزہ قومی سیمینار میں کیا گیا ۔ ہندی ادیبوں کا کہنا تھا کہ ادب کا کام انسانیت کی حفاظت اور سماجی قدروں کو پروان چڑھانا ہے ۔

مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے زیراتمام منعقدہ سیمینارمیں ملک کے ممتاز ادیبوں نے شرکت کی۔ سماج ، ادب اور آج کا دور کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں بولتے ہوئے ہندی کےادیب پروفیسرسنتوش بھدوریا نے کہا کہ آج کے ماحول میں ادیبوں اور دانشوروں کے زبانیں بند کی جا رہی ہیں ۔ سنتوش بھدوریا نے مغل دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کےمقابلہ میں مغلوں کی حکومت میں ادیبوں اور شاعروں کو خیالات کے اظہار کی زیادہ آزادی حاصل تھی ۔

ہندی ادیبوں کا بڑا بیان : مغل دور میں ہی سب سے زیادہ پروان چڑھا ہندی ادب ، اظہار خیالات کی تھی پوری آزادی

سیمینار کی صدارت ہندی کے بزرگ نقاد پروفیسر وجئے بہادر سنگھ نے کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ادب اور انسانیت کے پہلو پر روشنی ڈالی ۔ پروفیسر وجئے بہادر سنگھ نے اردو شاعروں  کی مثال دیتے ہوئےکہا کہ اردو شاعروں نے اپنے کلام میں انسانیت کی اعلیٰ قدریں پیش کی ہیں ۔ سیمینار میں موجودہ  ادب اور شاعری میں بڑھتے فرقہ پرستی کے رجحانات پر سخت تشویش کا اظہا ر کہا گیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سماج  کو صحیح سمت میں لے جانے اور لوگوں میں یکجہتی کا پیغام دینے میں ادیب اور دانشور اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز