قدیم ترین اردو ادارے کا وجود خطرے میں، 25 سال سے اردو کی کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی

ہندوستانی اکاڈمی کسی زمانے میں ریاست میں اردو کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہوا کرتی تھی ۔ لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ پچیس برسوں سے اردو کی ایک بھی کتاب یہاں سے شائع نہیں ہوئی ہے ۔

Aug 05, 2017 07:13 PM IST | Updated on: Aug 05, 2017 07:13 PM IST

 الہ آباد۔ یو پی میں اردو کے قدیم ترین ادارہ ’’ ہندوستانی اکاڈمی ‘‘ کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ہندوستانی اکاڈمی کو مشہور کشمیری پنڈت سرتیج بہادرسپرو نے قائم کیا تھا ۔ ہندوستانی اکاڈمی کسی زمانے میں ریاست میں اردو کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہوا کرتی  تھی ۔ لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ پچیس برسوں سے اردو کی ایک بھی کتاب  یہاں سے شائع نہیں ہوئی ہے ۔

الہ آباد میں واقع ہندوستانی اکاڈمی کو مشہورکشمیری پنڈت اور محب اردو سر تیج بہادر سپرو نے 1927؍ میں قائم کیا تھا ۔اس اکاڈمی کے قائم کرنے کا مقصد اردو اور ہندی زبانوں کو قریب لانا اور دونوں زبانوں کی بہترین کتابوں کو شائع کرنا تھا ۔ ہندوستان اکاڈمی نے50 سے زائد اردو کی کتابیں شائع کی ہیں  لیکن ملک کی تقسیم کے بعد سے اردو کتابوں کی اشاعت میں تیزی سے زوال آتا گیا ۔ حالت یہ ہوگئی کہ یہاں سے اردو کی آخری کتاب کو شائع ہوئے 25 برس کا عرصہ گذر گیا ہے ۔

قدیم ترین اردو ادارے کا وجود خطرے میں، 25 سال سے اردو کی کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی

ہندوستانی اکاڈمی میں اب صرف ہندی کا کام ہوتا ہے ۔اردو کی ترویج و اشاعت اب تقریباً معطل ہو گئی ہے ۔ ا کاڈمی سے شائع ہونے والی  اردو کی  پرانی اور نایاب کتابیں اسٹاک سے رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہیں ۔ اکاڈمی کے موجودہ سکیریٹری روی نندن کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے ہندوستانی اکاڈمی کی اشاعتی پالیسی میں تبدیلی کے بعد یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے ۔ ہندوستانی اکاڈمی ریاستی حکومت سے امداد یافتہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ کسی زمانے میں اردو اور ہندی  دونوں زبانوں کی کتابوں  کے لئے بجٹ جاری کیا جا تا تھا ۔ لیکن اب اردو کے  لئے  ریاستی حکومت الگ سے کوئی کوئی فنڈ جاری نہیں کرتی ۔ اردو کے مشہور مصنفین کی پچاس سے زائد کتابیں شائع کرنے والا یہ تاریخی  ادارہ اب  اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز