مغلوں کے دور سے جاری الہ آباد کی تاریخی عزاداری شیعہ۔ سنی اتحاد کی علامت

الہ آباد کی عزا داری کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں شیعہ اور سنی مل کر عزاداری کے جلوس نکالتے ہیں ۔

Sep 26, 2017 07:58 PM IST | Updated on: Sep 26, 2017 07:58 PM IST

 الہ آباد۔ ماہ محرم میں ہونے والی الہ آباد کی عزاداری کو تاریخی اہمیت حاصل ہے ۔ الہ آباد کی عزا داری  کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں شیعہ اور سنی مل کر عزاداری کے جلوس نکالتے ہیں ۔عزاداری کی یہ روایت جہاں ایک طرف شیعہ سنی اتحاد کے طور پر دیکھی جا تی ہے وہیں امام باڑے گنگا جمنی تہذیب کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں ۔

شہر الہ آباد اپنی گنگا جمنی تہذیب کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ یہ شہر  نہ صرف ہندو مسلم اتحاد کے  طور پر جانا جاتا  ہے بلکہ یہ  شیعہ سنی اتحاد  کا  کی مثال بھی بن چکا ہے ۔ الہ آباد کے لوگوں کو اپنی اس شاندار روایت پر ناز ہے ۔ الہ آباد میں عزاداری کا آغاز بادشاہ اکبر کے دورحکومت میں ہوا ۔ الہ آباد کے سب سے قدیم امام باڑے کی تعمیرسن 1530میں ہوئی تھی ۔آج الہ آباد میں ایک درجن سے بھی زیادہ قدیم امام باڑے آباد ہیں ۔ان امام باڑوں کےعلاوہ چھوٹےامام باڑے بھی کافی تعداد میں ہیں ۔ ماہ محرم میں ان امام باڑوں کی رونق دیکھتے ہی بنتی ہے۔ ماہ محرم میں ہونے والی عزاداری شیعہ اورسنی مل کرشامل ہوتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ الہ آباد کی تاریخ میں کہیں بھی شیعہ۔ سنی تنازعہ کا ذکر نہیں ہے ۔

مغلوں کے دور سے جاری الہ آباد کی تاریخی عزاداری شیعہ۔ سنی اتحاد کی علامت

الہ آباد کی عزاداری شیعہ سنی اتحاد کی علامت بن چکی ہے ۔ یہاں کے عزاخانے دونوں فرقوں کے لئے ہمیشہ کھلے  رہتے ہیں۔ کیونکہ الہ آباد میں عزاداری کی بنیاد مغلوں کے زمانے میں شروع ہوئی تھی، اس لئے آج بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ عزاداری میں تمام فرقے کے افراد  بلا تفریق شرکت کر سکیں ۔عزاداری سے وابستہ افراد الہ آباد کی اس شاندار روایت پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز