کسی کو کوئی شکوہ ہے تو وہ کرے ، میں کشمیر پر کھلے دل سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہوں : راجناتھ سنگھ

Sep 10, 2017 05:13 PM IST | Updated on: Sep 10, 2017 05:13 PM IST

اننت ناگ: مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ دل و دماغ کو بند کرکے کشمیر نہیں آئے ہیں بلکہ (مسئلہ کشمیر پر) کسی سے بھی کھلے دل سے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی شکوہ شکایت ہے تو وہ ہم سے شکایت کرے۔ انہوں نے اہلیان وادی سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ان باتوں کا اظہار اتوار کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ، ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید، کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان اور دوسرے سینئر پولیس عہدیداروں کے علاوہ وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے ہر پولیس اسٹیشن کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹ فراہم کرنے اور پولیس اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کے لئے بھی رقومات جاری کردی گئی ہیں۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو پھر سے ’جنگ نظیر‘ بنانے سے روک نہیں سکتی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی شہادتیں معمولی نہیں بلکہ عظیم شہادتیں ہیں جن کوہندوستان کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

کسی کو کوئی شکوہ ہے تو وہ کرے ، میں کشمیر پر کھلے دل سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہوں : راجناتھ سنگھ

وزیر داخلہ نے ریاستی پولیس کو ہر ایک سہولیت فراہم کرنے کا یقین دلاتے ہوئے اپنے خطاب کے دوران اے ایس آئی عبدالرشید کی بیٹی زہرہ اور ہفتہ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جاں بحق ہونے والی پولیس کانسٹیبل امتیاز احمد میر کا ذکر کیا۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے علیحدگی پسندوں کو بالواسطہ طور پر بات چیت کی میز پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ’میں یہاں تین دنوں کے لئے آیا ہوں۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب کوئی وزیر داخلہ ایک سال کے اندر چار دفعہ کشمیر آیا۔ میں بار بار آؤں گا۔ سب سے اپیل کروں گا۔ کسی کو کوئی شکوہ شکایت ہے تو ہم سے شکایت کرے۔ میں کھلے دل سے بات چیت کرنے کو تیار ہوں۔ دل و دماغ کو بند کرکے میں کشمیر نہیں آیا ہوں‘۔

مسٹر راجناتھ سنگھ نے اہلیان وادی سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں۔ انہوں نے کہا ’میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کو دہشت گردی سے نجات دلائیں۔ نجات تو ملے گی ہی۔ جب آپ جیسے بہادر جوان ہیں تو اس کشمیر کو دہشت گردی سے ضروری نجات ملے گی۔ اور پھر سے یہ ہمارا کشمیر جنت بنے گا۔ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت اسے پھر سے جنت بنانے سے نہیں روک سکتی‘۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کشمیر میں ریاستی پولیس کے بدولت امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا ’مجھے پورا یقین ہے کہ اس کشمیر میں امن وامان کے حالات آپ کی وجہ سے ہی ٹھیک ہوں گے۔ میں کشمیر کے تمام لوگوں کا تعاون چاہتا ہوں‘۔

راجناتھ سنگھ نے پولیس اسٹیشنوں کو بلٹ پروف گاڑیاں اور پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹ فراہم کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے ہر پولیس اسٹیشن میں بلٹ پروف گاڑیاں ہوں۔ بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کے لئے احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں۔ اس کے لئے رقومات واگذار کی گئی ہے۔ بلٹ پروف جیکٹ بھی ہمارے جوانوں کو ملنے چاہیے۔ اس کے لئے بھی رقومات جاری کردی گئی ہے۔ پولیس اسٹیشنوں کا اپ گریڈیشن ہونا چاہیے۔ اس کے لئے بھی رقومات جاری کردی گئی ہے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ آپ کو کتنی بھی سہولیات فراہم کی جائیں ، وہ کافی نہیں ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس کے اہلکار کشمیر، کشمیریوں اور کشمیریت کی حفاظت کے لئے لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’آپ اپنے دلوں میں ایک جذبہ لیکر کشمیر، کشمیریوں اور کشمیریت کی حفاظت کے لئے لڑرہے ہیں۔ اس لئے میں پھر سے آپ کی بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس حقیقت کو جانتا ہوں کہ آپ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ جو بھی کام کررہے ہو اس کشمیر کی حفاظت کے لئے کررہے ہو۔ یہاں رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے لئے آپ کام کررہے ہو۔ لیکن کچھ دہشت گرد ایسے ہیں جو صرف دہشت گردی سے مطلب رکھتے ہیں۔ جہاد کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنت نصیب ہوگی۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ یہاں ہمارے جموں وکشمیر اور دیگر فورسز کے جوان اگر جنت بنانا چاہتے ہیں تو اس کشمیر کو ہی جنت بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملاکر جنت بنانا چاہتے ہیں۔ جنت اور کہیں نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز