پارلیمانی کمیٹی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ، کہا :  پٹھان کوٹ حملے سے نہیں لیا گیا کوئی سبق

وزارت داخلہ سے وابستہ پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ وزارت داخلہ کی اس بات سے متفق نہیں ہے کہ ملک میں داخلی نظم و نسق کے حالات مجموعی طور کنٹرول میں ہيں۔

Mar 26, 2017 01:35 PM IST | Updated on: Mar 26, 2017 01:35 PM IST

نئی دہلی : پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے ملک میں داخلی سلامتی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ، جس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے سے کوئی سبق نہیں سیکھا ، جس وجہ سے گزشتہ سال بار بار اس طرح کے حملے ہوئے جن میں مسلح افواج کے جوانوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں۔

وزارت داخلہ سے وابستہ پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ وزارت داخلہ کی اس بات سے متفق نہیں ہے کہ ملک میں داخلی نظم و نسق کے حالات مجموعی طور کنٹرول میں ہيں۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اندرون ملک دہشت گردی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی میں بھلے ہی نسبتا کمی آئی ہے لیکن جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دہشت گردی اور دراندازی کے واقعات میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سال 2016 میں دراندازی کی کوشش کے 364 واقعات ہوئے جبکہ اس سے گزشتہ سال یہ تعداد صرف 121 تھی۔

پارلیمانی کمیٹی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ، کہا :  پٹھان کوٹ حملے سے نہیں لیا گیا کوئی سبق

پارلیمانی کمیٹی نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ فوج اور سلامتی دستہ کی تنصیبات کی حفاظت میں کمزوریوں اور خامیوں کے سبب ان پر کئی بار دہشت گرد انہ حملے ہوئے جن میں 82 جوان شہید ہوئے۔ کمیٹی نے کہا کہ اس سے دہشت گردوں کی طرف سے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی نئی حکمت عملی کا پتہ چلتا ہے۔ اپنی سفارشات اور تجاویز کو دہراتے ہوئے کمیٹی نے کہاکہ"سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے باوجود حکومت پمپور، اڑي، بارہمولہ اور ناگروٹا میں دہشت گردانہ حملوں کوے روکنے میں مکمل طور ناکام رہی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پٹھان کوٹ حملے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ کو سرحد پار سے دراندازی اور جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے افواج اور پولس دستوں کی تنصیبات کی سکیورٹی کے نظام کو انتہائی چاک چوبند کرنی چاہئے جس سے کہ اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں پر لگام لگائی جا سکے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ تمام خامیوں اور کمزوریوں کو دور کر کے سکیورٹی کے نیٹ ورک کو ایک دم پختہ کئے جانے کی فوری ضرورت ہے۔ اس نے انٹیلی جنس نظام کو مؤثر بنانے اور اس کے معلومات جمع کرنے اور ان کا تبادلہ کرنے کے نظام کو درست کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

Loading...

جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی طرف سے مقامی نوجوانوں کی بھرتی کی حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی نے وزارت داخلہ سے اس پر روک لگانے کے لئے کثیر جہتی منصوبہ بنانے کو کہا۔ ریاست میں قانون و انتظام میں رکاوٹ خاص طور پر پتھر بازی اور پولس و نیم فوجی دستوں کے جوانوں سے ہتھیار چھیننے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ سنگباری اور سکیورٹی تنصیبات پر فدائین حملوں کے واقعات کے درمیان کافی پیچیدہ تعلق ہے۔

کمیٹی نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ وزارت داخلہ کو اس گٹھ جوڑ کو توڑنے اور نوجوانوں کو دہشت گردوں کے بہکاوے میں آنے سے روکنے کے لئے کثیر رخی حکمت عملی بنانی چاہئے۔ وزارت کو دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ ​​اور ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی مخالف مہم چلا کر ان کی شناخت کر کے انہیں دبوچنے کے لئے بھی کہا۔ گزشتہ سال جولائی سے لے کر اس سال جنوری تک ریاست میں قانون و انتظام سے منسلک 2392 واقعات ہوئے جن میں 73 شہری ہلاک اور سلامتی دستہ کے دو جوان شہید ہوئے۔ پارلیمانی کمیٹی نے جموں وکشمیر کے لئے 80000 کروڑ روپے کے وزیر اعظم ترقیاتی پیکج کے تحت شروع کئے گئے مختلف منصوبوں کے کام کی سست رفتاری پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز