مرکزی وزارت داخلہ 10 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو جموں وکشمیر سے باہر نکالنے کی تیاری میں

Apr 04, 2017 12:57 PM IST | Updated on: Apr 04, 2017 12:57 PM IST

نئی دہلی۔ مرکزی وزارت داخلہ جموں وکشمیر میں غیر قانونی طور پر رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو در بدر کرنے سے متعلق ریاستی حکومت کی بھیجی گئی ایک تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق، فی الحال جموں وکشمیر میں دس ہزار روہنگیا مسلمان رہ رہے ہیں۔ مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی کی طلب کردہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں روہنگیا مسلمانوں کو ریاست سے باہر نکالنے کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں جموں وکشمیر کے چیف سکریٹری براج راج شرما اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید نے شرکت کی۔ مرکزی حکومت اب انہیں گرفتار کر واپس ميانمار بھیجنے والی ہے۔ فارینس ایکٹ کے تحت ان لوگوں کی شناخت کر انہیں واپس بھیجا جائے گا۔

انڈین ایکسپریس میں چھپی ایک خبر کے مطابق، میٹنگ کے بعد مرکزی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے کہا کہ وزارت جموں وکشمیر میں رہ رہے روہنگیا مسلمانوں کی شناخت اور ان کی جلا وطنی کے طریقوں اور ذرائع کی تلاش کر رہی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں میں سے زیادہ تر جموں وکشمیر کے جموں اور سانبا اضلاع میں آباد ہیں اور ہند۔ بنگلہ دیش کی سرحد یا ہند۔ میانمار سرحد کے ذریعہ غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد گزشتہ کئی برسوں سے ریاست میں رہ رہے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق، حیدرآباد اور ہریانہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پچاس ہزار روہنگیائی باشندے مقیم ہیں۔

مرکزی وزارت داخلہ 10 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو جموں وکشمیر سے باہر نکالنے کی تیاری میں

فائل فوٹو

الزام ہے کہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے واقعات کو انجام دینے کے لئے روہنگیا کے باشندوں کو استعمال کر رہی ہے اور اسی پر قدغن لگانے کے لئے وزارت یہ قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ بتا دیں کہ میانمار حکومت نے 1982 میں قومیت کا قانون بنایا تھا جس میں روہنگیا مسلمانوں کی شہری حیثیت کو ختم کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ہی میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتی آ رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز