کیا کوئی باپ اپنی بیٹی کو پیار سے چھو نہیں سکتا، ہنی پریت کا سوال؟

Oct 03, 2017 12:13 PM IST | Updated on: Oct 03, 2017 03:03 PM IST

نئی دہلی۔ ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ رام رحیم کو عصمت دری کا قصوروار قرار دئے جانے کے بعد فرار چل رہی اس کی منہ بولی بیٹی ہنی پریت نے اپنے والد کو بے قصورقرار دیا ہے۔ ہنی پریت نے ایک نجی ٹیلی ویزن چینل سے بات چیت میں کہا کہ ان کے والد رام رحیم بے گناہ ہیں اور آنے والے وقت میں ان کی بے گناہی ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں لڑکیوں کی بات ان سنی کرکے صرف ایک خط کی بنیاد پر کسی کو کیسے گناہ گار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

ہنی پریت نے کہا کہ والد کو سزا سنائے جانے کے بعد انہیں جس طرح دکھایا گیا اس سے وہ افسردہ ہوگئی اور خود سے سے ڈرنے لگی۔ وہ تشدد بھڑکانے میں شامل نہیں تھیں اور نہ ہی کسی کے پاس ان کے خلاف ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے غدار کہا گیا جو بالکل غلط ہے۔ اپنے والد کے ساتھ ایک بیٹی عدالت جاتی ہے اور ایسا بغیر اجازت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ باپ بیٹی کے مقدس رشتہ کو کیوں اچھالا جارہا ہے۔ کیا ایک باپ بیٹی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا ہے۔ کیا بیٹی باپ سے محبت نہیں کرسکتی ہے۔

کیا کوئی باپ اپنی بیٹی کو پیار سے چھو نہیں سکتا، ہنی پریت کا سوال؟

پولیس کے سامنے خود سپردگی کرنے کے سوال پر ہنی پریت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں قانونی صلاح لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کرکے دہلی گئیں اور اب ہریانہ۔پنجاب ہائی کورٹ جاؤں گی۔ خیال رہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) کی خصوصی عدالت نے دو سادھیوں کی عصمت دری معاملے میں سرسہ کے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو قصوروار قرار دیا تھا۔ اس کے بعد پنجاب اور ہریانہ میں بھڑکے تشد د میں 30افراد کی موت اور 200سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ عدالت نے رام رحیم کو 28اگست کو 20برس قید بامشقت کی سزا سنائی اور 30لاکھ 20ہزار روپے جرمانہ لگایا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز