کشمیر : انسانی ڈھال معاملہ میں ہیومن رائٹس کمیشن سخت ، فاروق ڈار کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کی ہدایت

Jul 10, 2017 07:52 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 07:52 PM IST

سری نگر : جموں وکشمیر میں اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے رہائشی فاروق احمد ڈار جسے فوجی میجر لیٹول گوگوئی نے رواں برس کے 9 اپریل کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر کم از کم دس گاؤں گھمایا تھا، کو دس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔ کمیشن نے کہا کہ انسانی ڈھال بنانے کے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کے علاوہ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسان انتونے واقعہ کے حوالے سے کمیشن میں کیس درج کیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق کیس کو پیر کے روز کمیشن کے چیئرمین جسٹس بلال نازکی کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے اسے نمٹانے کے دوران ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ڈار کو چھ ہفتے کی مدت کے اندر دس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔

اس کے علاوہ ریاستی چیف سکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسی مدت کے اندر کمیشن میں تعمیلی رپورٹ پیش کرے۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی کمیشن برائے انسانی حقوق نے یہ کہتے ہوئے فوج کو ہدایت جاری کرنے سے انکار کردیا ہے کہ ’فوج کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے‘۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ایک مہذب سماج میں ایک انسان کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خیال رہے کہ فوجی جیپ کے بونٹ سے باندھے گئے نوجوان فاروق احمد ڈار کی تصویر اور ویڈیو سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے 14 اپریل کو اپنے ٹویٹر کھاتے پر پوسٹ کی تھی۔

کشمیر : انسانی ڈھال معاملہ میں ہیومن رائٹس کمیشن سخت ، فاروق ڈار کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کی ہدایت

فوج نے مذکورہ نوجوان جو کہ ضلع بڈگام کے ژھل براس آری زال بیروہ کا رہنے والا ہے، کو 9 اپریل کے دن سری نگر کی پارلیمانی نشست پر پولنگ کے دوران انسانی ڈھال بناکر اپنی جیپ کے ساتھ باندھ دیا تھا ۔ فوج نے فاروق جس نے اپنے حق رائے دہی کا بھی استعمال کیا تھا، کواپنے گاڑیوں کے قافلے کو پتھراؤ سے بچانے کے لئے اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا۔ فوجی جیپ کے ساتھ باندھے گئے نوجوان فاروق کی تصویر اور ویڈیو نے وادی بھر میں شدید غصے اور ناراضگی کی لہر پیدا کی تھی۔ اہلیان وادی نے فوج کی اس حرکت کو بدترین انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا تھا۔

تاہم لوگوں کی ناراضگی اور غصے میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے فاروق ڈار کو فوجی جیپ سے باندھنے کے مرتکب میجر لیٹول گوگوئی کو توصیفی سند سے نوازا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز