جنوبی کشمیر میں خواتین اور جواں سال لڑکیوں کی پر اسرار طورپرچوٹیاں کاٹنے کے واقعات ، حریت کا اظہار تشویش

Sep 27, 2017 06:47 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 06:47 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس نے جنوبی کشمیر میں خواتین اور جواں سال لڑکیوں کی پر اسرار طورپرچوٹیاں کاٹنے کے واقعات پر شدید فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس غیر اخلاقی اور غیر اسلامی حرکت کے پیچھے جن عناصر کا بھی ہاتھ ہے ان کو بے نقاب کیا جانا چاہئے۔ حریت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان غیر انسانی حرکتوں کے پیچھے جن لوگوں کا بھی ہاتھ ہے وہ پورے سماج میں فساد اور خاص طور پر خواتین میں عدم تحفظ اور ہراسانی کا ماحول برپا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام ایک بلند نصب العین کے حصول کے لئے ایک منصفانہ جدوجہد میں مصروف عمل ہیں اور اس ضمن میں ہر سطح کی قربانیاں پیش کی جارہی ہیں تاہم عوام کی پر امن جدوجہد کے تئیں یکسوئی اور استقامت کو زک پہنچانے کے لئے سرکاری سطح پر اور ایجنسیوں کی جانب سے نت نئے مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے ضمن میں ریاستی انتظامیہ جس غفلت شعاری کا مظاہرہ کررہی ہے اور ان حرکات میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے وہ حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع کولگام میں رواں ماہ کے دوران خواتین کے بال کاٹنے کے ایک درجن واقعات پیش آئے ہیں۔

جنوبی کشمیر میں خواتین اور جواں سال لڑکیوں کی پر اسرار طورپرچوٹیاں کاٹنے کے واقعات ، حریت کا اظہار تشویش

بیشتر واقعات میں خواتین کے بال بیہوشی کی حالت میں کاٹے گئے۔ دوسری جانب جموں خطہ کے مختلف حصوں میں خواتین کو بیہوش کرکے پراسرار طریقے سے ان کے بال کاٹنے کے اب تک کم از کم پانچ درجن واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات سے جہاں خواتین میں خوف وہراس کی لہر دوڑی ہوئی ہے، وہیں پولیس اور فارنسک سائنس لیبارٹری اب تک اس معمے کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ چوٹی کاٹنے کا پہلا واقعہ رواں برس جون کے مہینے میں راجستھان میں سامنے آیا اور اس کے بعد ایسے واقعات ہریانہ، ہماچل پردیش ، مغربی اترپردیش اور دوسری ریاستوں سے بھی سامنے آنے لگے۔

ذرائع نے بتایا کہ جموں میں قائم فارنسک سائنس لیبارٹری معاملے میں کوئی پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے اب بالوں کے نمونے ایف ایس ایل سری نگر اور دوسری ریاستوں میں قائم لیبارٹریز کو بھیج دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’جموں میں ماہرین نے ایک ہفتے تک بالوں کے نموں کی جانچ کی ، لیکن وہ کوئی پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد یہ نمونے سری نگر اور دوسری ریاستوں میں قائم سائنس لیبارٹریز کو بھیجے گئے‘۔

ذرائع نے بتایا ’بیشتر واقعات میں خواتین بیہوش ہوگئیں اور بعدازاں اپنے بال پراسرار طریقے سے کٹے ہوئے پائے‘۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کو ہدایت دی ہے کہ وہ خصوصی ٹیم تشکیل دیں تا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام اور ریاست کے دیگر علاقوں میں بال کاٹنے کے پر اسرار واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔25 ستمبر کو یہاں جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ’محبوبہ مفتی نے پولیس سربراہ سے کہا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی جانچ کے عمل میں تیزی لائیں کیوں کہ ان سے نوجوان لڑکیوں ا ور اُن کے والدین میں خوف پیدا ہوا ہے‘۔ محترمہ مفتی کی ہدایت کے بعد ریاستی پولیس نے چوٹی کاٹنے کے پراسرار واقعات کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز