حریت کانفرنس کا الزام ، کٹھوعہ جیل میں کشمیری قیدیوں کو ملاقاتیوں کے سامنے کیا جاتا ہے ننگا

Aug 02, 2017 09:11 PM IST | Updated on: Aug 02, 2017 09:11 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں بزرگ علیحدگی پسند راہنما سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس نے الزام لگایا ہے کہ جموں کی کٹھوعہ جیل میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے وہ رونگٹے کھڑا کرنے والے ہیں۔ حریت نے کہا کہ قیدیوں کے مطابق انہیں نہ صرف ملاقاتیوں کے سامنے ننگا کیا جاتا ہے، بلکہ انہیں انتہائی خطرناک طریقے کا ٹارچر بھی کیا جاتا ہے۔ حریت کانفرنس نے جیل انتظامیہ کے اس ظالمانہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس جیل کو عملاً ابوغریب جیل بنایا گیا ہے۔

حریت کانفرنس نے قیدیوں کے حوالے سے یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ کٹھوعہ جیل ایک ایسا واحد جیل ہے جہاں پندرہ روز کے بعد ملاقات دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اکثر سیاسی قیدیوں کے گھروالوں کو ملاقات کئے بغیر ہی واپس لوٹایا جاتا ہے۔ حریت نے کہا کہ جیل انتظامیہ کا یہ معمول بن گیا ہے کہ وہ قیدیوں کے عزیزواقارب سے ہتک آمیز سلوک کرتے ہیں جب وہ ان سے ملاقات کے لیے آتے ہیں۔ حریت نے اپنے بیان میں کہا کہ قیدیوں کے مطابق کٹھوعہ جیل انتظامیہ کشمیر ی سیاسی قیدیوں کو ہر ممکن طریقے سے تنگ اور ہراساں کرتے ہیں اور اس جیل میں قیدیوں کو جو غذائیں فراہم کی جاتی ہیں وہ کسی بھی حیثیت سے میعاری نہیں ہوتی ہیں۔

حریت کانفرنس کا الزام ، کٹھوعہ جیل میں کشمیری قیدیوں کو ملاقاتیوں کے سامنے کیا جاتا ہے ننگا

سینکڑوں قیدیوں کے لیے قائم لنگر میں صفائی کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس وجہ سے اکثر قیدی بیمار ہوجاتے ہیں۔ حریت کانفرنس نے عبداللہ ناصر، نذیر احمد راتھر، پیر تنویر پٹن، ظہور احمد لون، غلام رسول پرے، فاروق احمد توحیدی اور باقی درجنوں سیاسی قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ان کے علاج ومعالجے کے لیے کوئی مناسب انتظام دستیاب نہیں ہے۔ قیدیوں کے مطابق جیل ھٰذا میں دو بارکوں کے درمیان والے صحن میں ایک واٹر کولر رکھا گیا ہے اور لاک اپ کے بعد ان قیدیوں کو پانی کے لیے بھی ترسایا اور تڑپایا جاتا ہے۔

حریت کانفرنس نے کہا کہ ان قیدیوں کو 24گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ لاک اپ سے باہر نکالا جاتا ہے جس کی وجہ انہیں ذہنی وجسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ حکومت نے جیل انتظامیہ کو کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ ان قیدیوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک روا نہ رکھے اور محض انتقام گیری کی پالیسی کے تحت آزادی پسند لوگوں کو دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ 2016ء کی عوامی تحریک کے دوران میں جو آزادی پسند لوگ حراست میں لئے گئے تھے ان میں سے ابھی بھی سینکڑوں کے تعداد میں لوگ مختلف جیلوں اور انٹروگیشن سینٹروں میں پابند سلاسل ہیں۔

حریت نے کہا کہ بیشتر قیدیوں پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کو عدالتِ عالیہ نے اگرچہ پہلے ہی کالعدم کیا ہوا ہے، البتہ انہیں چھوڑا نہیں گیا اور ان پر لگاتار دوسرا، تیسرا اور بعض پر چوتھا پی ایس اے عائد کیا گیا ہے۔ حریت نے کہا کہ ایک بڑی تعداد ایسے قیدیوں کی بھی ہے جن پر کوئی کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت نہیں ہے، البتہ انہیں بھی حبس بے جا میں رکھا گیا ہے اور احتیاطی نظربندی کے نام پر ان کی غیر قانونی حراست کو طول دیا جارہا ہے۔ حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی اپنی سخت حیرت کا اظہار کیا کہ ریاستی انتظامیہ پولیس اور جیل انتظامیہ کے قیدیوں کے حوالے سے ظالمانہ رویے کا کہیں سے کوئی نوٹس لیا جاتا ہے اور نہ اس لاقانونیت پر روک لگانے کے لیے کوئی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز