شوہر کی حیثیت کے مطابق طلاق کے بعد بیوی کے گزارہ بھتہ کی رقم طے کی جائے گی : سپریم کورٹ

Apr 23, 2017 06:53 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 06:53 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ طلاق کے بعد ایک بیوی کو ملنے والے گزارہ بھتہ کی رقم شوہر کی اقتصادی حالت کے مطابق ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ گزارہ بھتہ کا پیسہ ہمیشہ معاملہ کی حقائق پر مبنی پوزیشن پر انحصار کرے گا اور صحیح ہوگا کہ کورٹ مختلف عوامل پر دعوی کو دیکھیں۔ بنچ نے سال 1970 میں سپریم کورٹ کی طرف سے منظور ایک فیصلہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ۔

کورٹ نے ایک شوہر کی طرف سے مطلقہ بیوی کو دی جانے والی گزارہ بھتہ کی رقم 23 ہزار روپے سے کم کرکے 20 ہزار روپے کر دی۔ کورٹ نے اس حقیقت پر بھی غور کیا کہ اس نے پہلی شادی ختم ہونے کے بعد دوسری خاتون سے شادی کی ہے اور اس کا اس سے ایک بچہ بھی ہے۔ جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس ایم ایم شانتانگودار کی بنچ نے کہا کہ بیوی کو دی جانے والی مستقل گزارہ بھتہ کی رقم فریقین کی حیثیت اور شوہر کے گزاہ بھتہ دینے کی صلاحیت کے مطابق ہونی چاہئے۔

شوہر کی حیثیت کے مطابق طلاق کے بعد بیوی کے گزارہ بھتہ کی رقم طے کی جائے گی : سپریم کورٹ

گزارہ بھتہ ہمیشہ معاملے کی حقائق پر مبنی حالات پر منحصر ہے اور عدالت کے لئے مناسب ہو گا کہ وہ مختلف عوامل پر گزارہ بھتہ کے دعوی کو دیکھیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بیوی کو گزارہ بھتہ کے طور پر رقم دینے کے لئے شوہر کی اصل تنخواہ کا 25 فیصد مناسب اور منصفانہ ہوگا ۔ بینچ ایک شخص کی طرف سے دائر ایک درخواست پر غور کر رہی تھی، جس نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا ، جس میں اس کی طرف سے دئے جانے والے گزارہ بھتہ کو 16 ہزار روپے فی ماہ سے بڑھا کر 23 ہزار روپے فی ماہ کر دیا تھا۔

کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے گزارہ بھتہ کی رقم بڑھا صحیح کام کیا ، کیونکہ اس شخص کی اصل تنخواہ تقریبا 63500 روپے سے بڑھ کر 95000 فی مہینہ ہو گئی ہے۔ تاہم کورٹ نے کہا کہ چونکہ اپيل کنندہ شخص نے دوسری شادی کر لی ہے اور اس کا دوسری شادی سے ایک بچہ بھی ہے، اس لئے ہم مدعا علیہ بیوی اور بیٹے کے لئے گزارہ بھتہ کی رقم 23 ہزار روپے سے کم کرکے 20 ہزار روپے فی ماہ کرنے کو صحیح مانتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز