ذات نہیں نظریے کی بنیاد پر صدارتی الیکشن لڑ رہی ہوں: ميرا کمار کا پریس کانفرنس سے خطاب

Jun 27, 2017 03:50 PM IST | Updated on: Jun 27, 2017 03:50 PM IST

نئی دہلی۔  صدارتی انتخاب کے لئے اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ’سابرمتی آشرم‘ سے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے الیکٹورل کے تمام ارکان سے ’ضمیر کی آواز‘ پر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اعلی آئینی عہدے کا یہ انتخاب ذات نہیں بلکہ نظریے کی بنیاد پر لڑ رہی ہیں۔ محترمہ کمار نے امیدوار بننے کے بعد آج یہاں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اپنے اوپر لگےتمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش ہے۔ وہ کل صبح گیارہ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا پرچہ نامزدگی داخل کریں گی اور 30 ​​جون کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے آشرم سابرمتی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ 17 اہم اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد اور عمومی نظریہ کی بنیاد پر انہیں اپنا امیدوار بنایا ہے۔ یہ نظریہ سماجی انصاف، کثیر جہتی سوسائٹی، پریس کی آزادی، غربت کا خاتمہ اور ذات پات کے نظام کی تباہی پر مبنی اور یہ اقدار ان کے دل کے قریب ہیں جن پر ان کا گہرا عقیدہ ہے۔ سابق لوک سبھا اسپیکر نے بتایا کہ انہوں نے دو دن پہلے الیکٹورل  کالج کے  تمام اراکین کو خط لکھ کر انہیں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ پانچ بار ایم پی رہیں محترمہ کمار نے ان اراکین سے کہا کہ تاریخ نے ان کے سامنے منفرد موقع پیش کیا ہے اور انہیں دوسری چیزوں کو بھلاکر ضمیر کی آواز پر ان کی حمایت کرنی چاہئے۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی طرف سے مسٹر كووند کی حمایت کرنے سے متعلق سوال پر محترمہ کمار نے کہا کہ سیاست میں یہ چیزیں ہوتی ہیں اور اس میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ان سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کریں گی، محترمہ کمار نے کہا کہ انہوں نے نتیش سمیت سب کو خط لکھا ہے اور اب گیند ان سب کے پالے میں ہے۔ یہ کہے جانے پر کہ قومی جمہوری اتحاد کی طرف سے بہار کے سابق گورنر رام ناتھ كووند کو صدارتی انتخاب کے لئے دلت امیدوار کے طور پر پیش کئے جانے کے بعد کانگریس نے بھی آپ کو ایک دلت چہرے کے طور پر میدان میں اتارا ہے، محترمہ کمار نے کہا، ’’مجھے یہ دیکھ کر انتہائی اذیت ہو رہی ہے کہ اس انتخاب کو دو دلتوں کے درمیان لڑائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے معاشرے کی اصلیت سامنے آ رہی ہے اور یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ كس طرح سے سوچ رہا ہے۔ اس سے پہلے کئی بار نام نہاد اونچی ذات کے امیدوار آمنے -سامنے رہے ہیں لیکن اس وقت ان کی ذات نہیں بلکہ ان کی خصوصیات، شخصیت اور قابلیت پر بات ہوتی تھی ۔ لیکن جب دلت کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی شخصیت کے تمام پہلو پست چلے جاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہےکہ ذات پات کو گٹھری میں باندھ کر زمین کے اندر بہت گہرائی میں گاڑ دینا چاہئے اور معاشرے کو آگے بڑھنا چاہئے‘‘۔

ذات نہیں نظریے کی بنیاد پر صدارتی الیکشن لڑ رہی ہوں: ميرا کمار کا پریس کانفرنس سے خطاب

صدارتی انتخاب کے لئے اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔

جگ جیون رام فاؤنڈیشن سے متعلق مالی بدعنوانی اور سرکاری بلوں کے بقایا رقم کی ادائیگی كے سلسلے میں ان کے اوپر لگائے جا رہے الزامات پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرکاری ادارے كو زمین دی تھی۔ دیگر تمام معاملات کو شفاف طریقے سے نمٹایا جا چکا ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج کی طرف سے لوک سبھا اسپیکر رہتے ہوئے ان کے طریقہ کار پر سوال  اٹھا کر ان پر جانبدارانہ طریقے سے کام کرنے کے لگائے گئے الزام پر محترمہ کمار نے کہا کہ جب لوک سبھا کی وہ اسپیکر تھیں اس آخری سیشن کے آخری دن تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے اختتامی ریمارکس دیئے تھے۔ حکمراں فریق اور اپوزیشن سب نے ان کے طریقہ کار کی تعریف کی تھی اور کسی نے بھی ان پر جانبدارانہ طریقے سے کام کرنے کا الزام نہیں لگایا تھا۔

ملک میں دلتوں پر بڑھتے تشدد سے جڑے سوال پر محترمہ کمار نے کہا کہ یہ نہایت ہی شرمناک ہے کہ ہمارے ملک میں آج بھی دلتوں، كمزور اور حاشیہ پر پڑے لوگوں پر ظلم ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دلتوں، قبائلیوں اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے بنے منصوبوں کو لاپرواہی کے ساتھ نفاذ کیا جا رہا ہے۔ سماج کی دبی -كچلی شخصیت کے وقار کو گرائے جانے سے آئین کی روح کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں اسی نظریے کی لڑائی لڑ رہی ہوں۔ یہ میری نہیں پورے ملک کی لڑائی ہے‘‘۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کے اس بیان پر کہ صدر کے انتخاب میں نظریہ کا کوئی مقام نہیں ہے، محترمہ کمار نے کہا کہ یہ سب سے بڑے عہدے کا الیکشن ہے اور اس میں نظریات کی جگہ نہیں ہے، ایسا کیسے سوچا جا سکتا ہے۔ یہ کہے جانے پر کہ مسٹر كووند نے جب اپنی انتخابی مہم کا آغاز اپنے آبائی ریاست اتر پردیش سے کیا ہے تو وہ اپنی آبائی ریاست بہار سے کرنے کے بجائے سابرمتی سے کیوں کر رہی ہیں اور اس کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ سابرمتی سے مہم کا آغاز اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ سابرمتی کے سنت کی وجہ سے اس مقام کی خاص اہمیت ہے۔ گاندھی جی سے سب کو بے پناہ عقیدت ہے ۔ انہوں نے آزادی کی تحریک کا آغاز وہیں سے کیا تھا اورقابض برطانوی حکومت کو اكھاڑ پھینکا تھا۔ وہاں جانے سے طاقت ملتی ہے۔ یہ کہے جانے پر کہ بہار کے کانگریس کے چھ رکن اسمبلی مسٹر كووند کی حمایت کرنے جا رہے ہیں، اس پر انہوں نے یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز