Live Results Assembly Elections 2018

دہشت گردوں کی ہلاکت مسئلہ کا حل نہیں ، ایک ماروگے تو 10 پیدا ہوں گے : حریت لیڈر میرواعظ عمر فاروق

میرواعظ مولوی عمر فاروق نے الزام لگایا کہ کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

Aug 18, 2017 09:12 PM IST | Updated on: Aug 18, 2017 09:13 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے الزام لگایا کہ کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کو مارنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگابلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلح نوجوان کی ہلاکت کے بعد دس نوجوان اسی راستے پر نکل پڑتے ہیں۔ میرواعظ جن کی خانہ نظر بندی جمعہ کو قریب دو مہینے بعد ختم کی گئی، نے اِن باتوں کا اظہار سری نگر کے پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اہلیان کشمیر ریاست کی خصوصی شناخت اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے دفاع کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ میرواعظ نے اپنے خطاب میں کہا ’آج ایک بار پھر کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوان کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبورا کیا جارہا ہے۔ انہیں ظلم اور قبضے کے خلاف بندوق اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔حکومت بڑے بڑے اعلان کرتی ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کا حل نکالے گی۔ کیسے حل نکالیں گے، اُن (ہتھیار اٹھانے والے) تمام جوانوں کو مارا کر۔ کیا یہ مسئلہ کا حل ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان جوانوں کو جب مارا جاتا ہے تو سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اُن جذبات کا اظہار کرتے ہیں جن جذبات کی ترجمانی یہ نوجوان کرتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک جوان کو مارتے ہیں تو یہاں سے اسی راہ پر چلنے کے لئے دس جوان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آپ ان جوانوں کو تو مار سکتے ہو، لیکن کیا آپ اس جذبے کو مارا سکتے ہو جس کی ترجمانی آج جموں وکشمیر کی یہ تیسری نسل کررہی ہے؟‘۔

دہشت گردوں کی ہلاکت مسئلہ کا حل نہیں ، ایک ماروگے تو 10 پیدا ہوں گے : حریت لیڈر میرواعظ عمر فاروق

انہوں نے کہا ’ہم اُن سے (حکمرانوں سے) کہنا چاہتے ہیں کہ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم نواجوں کو ختم کرکے مسئلے کا حتمی حل نکالیں گے۔ سیاسی سپیس اور کشمیر کی خصوصی شناخت کو ختم اور مسئلہ کشمیر کو کمزور کرکے مسئلے کا حل نکالیں گے۔ یہ ہونے والی باتیں نہیں ہیں۔ کشمیر کے ایک ایک بچے، نوجوان، ایک ایک ماں اور بہن کو اپنے بنیادی حق کو بچانے کے لئے اگر کوئی قربانی بھی دیتی پڑی تو وہ اس قربانی سے دریغ نہیں کریں گے‘۔

میرواعظ نے کہا ہے کہ پچھلے 70 سال سے کشمیر کے لوگ اسی بات کو لیکر جی رہے ہیں اور مرر ہے ہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور تنازعہ کشمیر کا حتمی حل ہونا باقی ہے اور اس کی بنیاد عالمی ادارے یعنی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے جہاں ہندوستان کی سرکار نے عالمی برادری کے سامنے کشمیری عوام کو اس کا یقین دلایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام تنازعہ کشمیر کے حتمی حل کے منتظر ہیں تاکہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کی غیر یقینی ختم ہو سکے اور برصغیر میں نفرت ، بے اطمینانی اور خون خرابہ بند ہو سکے ۔

Loading...

حریت چیئرمین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ حقائق کو صدق دلی کے ساتھ تسلیم کرکے فریقین ، انسانیت اور باہمی عزت و احترام کے ساتھ مسئلہ پر پوری توجہ دیں تاکہ حقیقی امن کی طرف بڑھا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جبر و تشدداور ظلم و زیادتی سے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے حالات اور بھی بھڑک اٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’آئے روز تعلیم یافتہ نوجوان مارے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ سب نوجوانوجوں کو ختم کرکے مسئلہ حل ہوگا لیکن جو ایسا سوچتے ہیں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان نوجوانوں نے جبر و تشدد کا مقابلہ کرنے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہتھیار اٹھائے ہیں جب تک سرکار صرف تشدد اور ظلم و زیادتی سے کام لیتی رہے گی تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا‘۔ میرواعظ نے کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں احتجاج کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بار بار بند کر دینے سے ان طلباء اور نوجوانوں پر یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان کے احتجاج کا کس طرح جواب دیا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح قیادت کو ہراساں اور تنگ کرنے کے لئے تفتیشی اداروں کے ذریعے جھوٹ کا سہارا لیکر ان کے خلاف الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ بے بنیاد پروپیگنڈا اور ان کے افراد خانہ اور جان پہچان والوں کو ہراساں کرنے کا عمل صرف ان کو بدنام کرنے اور یہاں کے لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی غرض سے کیا جاتا ہے ۔ ان کے یہ حربے بھی بیکار جانے والے ہیں کیونکہ یہاں کے عوام ایسے حربوں کے پس پردہ اغراض و مقاصد کو خوب پہچانتے ہیں اور اسکو لغو اور بے بنیاد سمجھتے ہیں ۔ میرواعظ نے کہا ’ میں ایک بار پھر ہندوستانی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کو صرف ایک خطہ زمین یا دو ہمسایہ ممالک کے درمیان صرف سرحدی تنازعہ نہ سمجھیں بلکہ اس کو ایک انسانی مسئلہ سمجھیں جس کے ساتھ لاکھو ں لوگ منسلک ہیں اور پچھلے 70 برسوں سے لاکھوں تقسیم شدہ خاندان مصائب کا شکار ہیں۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک مبنی بر انصاف حل کا تقاضا کرتا ہے‘ ۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز