مسلم پرسنل لا بورڈ کے بعض عہدیداروں نے اسلامی شریعت کو مذاق بنا دیا ہے: شاہی امام

Aug 23, 2017 02:59 PM IST | Updated on: Aug 23, 2017 03:09 PM IST

نئی دہلی۔ شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے آج یہاں جاری پریس ریلیز میں کہا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے بعض عہدیداروں نے اسلامی شریعت کو مذاق بنا دیا ہے جس سے پورے ملک کے مسلمان بے چین ہیں۔ مولانا سید احمد بخاری نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں مذہبی آزادی کی بنیادی روح کو برقرار  رکھا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کو شدید نشانہ بناتے ہوئے الزام عاید کیا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے ذمہ دار بورڈ کے وہ بعض عہدیداراورممبران ہیں جن کے دوہرے رویہ نے اسلامی شریعت کو مذاق بنا دیا جس کی وجہ سے پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت ہے۔

مولانا بخاری نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ عدالت کو شریعت میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ اس معاملے میں بورڈ کو چاہیے تھا کہ وہ شروع ہی میں طلاق ثلاثہ کے معاملے پر ایک اجتماعی رائے قائم کرتا اور مسلک اہل حدیث و  دیگر مسالک کے افراد کو بھی ساتھ لیتا اور عدالت میں کہاجاتا کہ ایک نشست میں تین طلاق خلاف شرع ہے۔ اگر اس نے سپریم کورٹ میں ایسا حلف نامہ داخل کیا ہوتا تو آج سپریم کورٹ کواپنا فیصلہ سنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آج نبوت کا دروازہ بند ہے لیکن اجتہاد کا نہیں۔ بورڈ کے ذمہ داروں کو اجتہاد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا ۔ انہوں نے بورڈ کے بعض ممبران پر دوہرا موقف اختیار کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ بورڈ کے وکلا نے عدالت میں بحث کے دوران کہا کہ ایک نشست میں تین طلاق دینا گناہ ہے۔ دوسری طرف انھوں نے اسے برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ جب کوئی عمل گناہ ہے

مسلم پرسنل لا بورڈ کے بعض عہدیداروں نے اسلامی شریعت کو مذاق بنا دیا ہے: شاہی امام

شاہی امام سید احمد بخاری: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز

تو وہ شریعت کا حصہ کیسے ہو سکتا ہے۔اس دوہرے موقف کی وجہ سے ہی ملت کو آج یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔

مولانا بخاری نے بورڈ کے بعض ممبران کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے بورڈ کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ انھوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کی خاطر سازشیں رچیں اور معاملے کو یہاں تک پہنچایا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے آخری مرحلے

میں آکر طلاق ثلاثہ کو خلاف شرع قرار دیا، اگر اس نے پہلے ہی یہ بات عدالت میں کہی ہوتی تو یہ نوبت نہیں آتی۔ مولانا بخاری نے اپنے بیان میں طلاق ثلاثہ پر مسلک اہلحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں ایک نشست کی تین طلاقوں کو ایک ہی تسلیم کیا جاتا ہے، سوال کیا کہ کیا ان کے مسلک کی بنیاد قرآن اور حدیث نہیں ہے؟ کیا وہ تین کو ایک مان کر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں اور شریعت کا مذاق اڑا رہے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ مذہبی گھرانوں میں اگر کوئی شخص ایک نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ لوگ اہلحدیث سے فتویٰ لے لیتے ہیں ، لیکن اگر عام مسلمانوں میں سے کوئی تین طلاق دے دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ طلاق مغلظہ واقع ہو گئی۔ شاہی امام نے سوال کیا کہ آخر یہ منافقت کیوں؟اگر اہلحدیث افراد کا مسلک درست ہے تو اسی کو اختیار کرکے تمام مسلمانوں کو ذہنی پریشانیوں، دشواریوں اور جگ ہنسائی سے نجات کیوں نہیں دلوائی جاتی؟ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا الگ الگ مسلک کے مسلمانوں کی شریعت الگ الگ ہے؟ کیا سب ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن کے ماننے والے نہیں ہیں؟

talaq

شاہی امام نے سپریم کورٹ میں بحث کے دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیل کپل سبل کی جانب سے طلاق ثلاثہ کو آستھا کا معاملہ بتانے پر بھی شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ معاملہ آستھا کا نہیں بلکہ شریعت کا ہے۔ لیکن کپل سبل سے سازش کے تحت اسے آستھا کا معاملہ کہلوایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بابری مسجد کے سلسلے میں فیصلہ آئے گا تو اس بیان کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ رام مندر کا معاملہ بھی آستھا کا معاملہ ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو زبردست دشواریوں سے گزرنا پڑے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز