اترپردیش میں مسلمانوں کو اپنا سیاسی متبادل تلاش کرنا چاہیے: سید احمد بخاری

Jan 02, 2017 03:21 PM IST | Updated on: Jan 02, 2017 03:23 PM IST

نئی دہلی۔  اترپردیش میں پیدا شدہ تازہ ترین سیاسی ہلچل اور حکمراں سماج وادی پارٹی کے داخلی انتشار کے درمیان ریاست میں ہونے والے  اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مسلمانوں کے تذبذب کو دیکھتے ہوئے شاہی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری نے مسلمانوں کو اپنا سیاسی متبادل تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ شاہی امام نے یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست، سیاست ہوتی ہے کوئی عقیدہ نہیں۔ سیاست میں ہر پانچ برس کے بعد مسلمانوں کو اپنے اور ملک کے مفادات کو سامنے رکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس لئے اترپردیش کی موجودہ صورتحال میں مسلمانوں کو اپنا سیاسی متبادل تلاش کرنا چاہیے۔ لیکن مسلمان کسی ایک سیاسی پارٹی کو اپنا مسیحا مان کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے جس کی وجہ سے اسے ماضی میں کافی نقصان اٹھانا پڑتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ذہنی غلامی سے باہر نکل کر اپنی اس روش کو بدلنا ہوگا۔ تاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت مسلمانوں کا صرف ووٹ بنک کے طور پر استعمال نہ کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں کسی کے ساتھ دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ اس لئے ملک کے مسلمانوں کو ووٹ بنک کے طور پر استعمال ہونے سے خود کو بچانا ہوگا۔ امام بخاری نے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سماج وادی پارٹی کے داخلی انتشار سے بی جے پی کو فائدہ نہیں پہنچے گا تو انہو ں نے اس کا با اندازے دیگر جواب دیا کہ بی جےپی کو ہرانے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی نہیں ہے ۔ اس کی فکر وہ کریں جو اسے مرکز میں برسراقتدار لانے کے ذمہ دار ہیں۔ کسی دوسری سیاسی جماعت سے سماج وادی پارٹی کے ممکنہ اتحاد کی بابت سوال پر امام بخاری نے کہا کہ مسلمانوں کو کسی سیاسی پارٹی کے اتحاد کے بجائے اپنے اتحاد کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ سبھی سیاسی پارٹیوں کی کامیابی اسی میں ہے کہ مسلمان منتشر رہیں۔ ایس پی کو خاص طور پر زد میں لیتے ہوئے شاہی امام نے الزام لگایا کہ اس نے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور بی جے پی کو مرکز میں حکومت بنانے میں مدد کی ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ صرف ملائم سنگھ یادو کی فیملی کے ہی پانچ ممبران لوک سبھا میں پہنچے۔

اترپردیش میں مسلمانوں کو اپنا سیاسی متبادل تلاش کرنا چاہیے: سید احمد بخاری

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2012 کے منشور میں مسلمانوں سے سماج وادی پارٹی نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کیا گیا۔ حالانکہ اس پارٹی نے مسلمانوں کی کمزوری کا ہمیشہ فائدہ اٹھایا۔اس نے شاید یہ سمجھ رکھا ہے کہ مسلمان اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی ایسی سوچ ختم کی جائے۔ شاہی امام نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ناانصافی ووعدہ خلافی کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھائیں تاکہ وہ مستقبل میں ایسا کرنے سے باز آئیں اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنانے کے عہد کی پابندی کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز