راجستھان میں مسلم نوجوان کے قتل پر احمد بخاری کا شدید ردعمل ، اب ہمارے صبر کا اور نہ لیا جائے امتحان

شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے راجستھان کے راج سمند میں ایک مسلمان کے بہیمانہ انداز میں قتل اور اسے نذر آتش کیے جانے اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے واقعہ پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے

Dec 08, 2017 07:47 PM IST | Updated on: Dec 08, 2017 07:47 PM IST

نئی دہلی: شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے راجستھان کے راج سمند میں ایک مسلمان کے بہیمانہ انداز میں قتل اور اسے نذر آتش کیے جانے اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے واقعہ پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟امام بخاری نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ واقعہ اور اس کی ویڈیو انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ اب اس قسم کے وحشیانہ واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ بے قصور مسلمانوں کو انتہائی بربریت کے ساتھ قتل کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے دادری کے محمد اخلاق کو مارا گیا، پھر الور میں پہلو خان کو دوڑا دوڑا کر اور پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا گیا، ہریانہ کے حافظ جنید کا قتل کیا گیا، راجستھان ہی کے عمر خان کو ہلاک کر دیا گیا۔

مولانا بخاری نے کہا کہ مسلمانوں نے بہت صبر سے کام لیا ہے۔ حکومت اب ہمارے صبر کا اور امتحان نہ لے۔ اب تک ہم بہت سے واقعات پر مصلحتاً خاموش رہے۔لیکن اب خاموش رہنے کا وقت نکلتاجارہاہے۔ بار بار ملک میں قومی یکجہتی کی بات کی جاتی ہے اور بھائی چارے کو قائم رکھنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن کیا قومی یکجہتی کے قیام کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر عاید ہوتی ہے۔ بے قصور مسلمانوں کو چن چن کر ہلاک کیا جائے اور پھر بھی قومی یکجہتی کا نعرہ ہم ہی لگائیں۔

راجستھان میں مسلم نوجوان کے قتل پر احمد بخاری کا شدید ردعمل ، اب ہمارے صبر کا اور نہ لیا جائے امتحان

شاہی امام مولانا سید احمد بخاری : فائل فوٹو۔

انہوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ٹویٹ کرتے ہیں، لیکن اس درندگی پر خاموش کیوں ہیں؟ وہ اپنی انتخابی ریلیوں میں بہت سے معاملات پر تو بول رہے ہیں ۔لیکن اس بربریت پر انہیں اپنے فرض منصبی کومکمل ذمہ داری کے ساتھ اداکرناچاہئے۔اور ایسے وا قعات کو روکنے کی پوری کوشش کرناچاہئے۔انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وہ بھی اس قسم کے واقعات میں اضافے کا ذمہ دار ہے۔ اگر میڈیا ایسے واقعات کو صحیح تناظر میں دکھائے اور ان کی مذمت کرے تو اس طرح کے واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ راج سمند کے مذکورہ واقعہ کو بھی الیکٹرانک میڈیا اس طرح نہیں دکھا رہا ہے جس طرح اسے دکھانا چاہیے۔

امام بخاری نے یہ بھی کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ملک میں نفرت کا ایک ماحول بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ ماحول صرف مسلمانوں کو ہی نقصان نہیں پہنچا رہا ہے بلکہ اس سے ملک کو بھی شدید نقصان ہو رہا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور حکومت شرپسند عناصر کے سامنے بے بس ہے۔انہوں نے حکومت سے کہاکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو روکے اور قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز