جی ایس ٹی کے بعد کھیت کھلیانوں پر راحت نہیں بلکہ آفت کی ہوگی بارش

Jul 01, 2017 03:33 PM IST | Updated on: Jul 01, 2017 03:33 PM IST

نئی د ہلی : پہلے سے خستہ حالی کے شکار کسانوں کی پریشانی کیا جی ایس ٹی سے بڑھ مزید جائے گی یا پھر یہ ان کو فائدہ ملے گا، آج یہ سوال ہر کسان کے ذہن میں گھوم رہا ہے۔ اس وقت دھان کی بوائی کا وقت ہے، اس تبدیلی کا اس فصل پر کیا اثر پڑے گا ، اس کا راشٹریہ کسان مزدور سنگھ نے تخمینہ لگایا ہے۔ فیڈریشن کے مطابق جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد دھان کی فصل لاگت تقریبا 2244 روپے فی ایکڑ بڑھ جائے گی۔

یکم جولائی سے پہلے کھاد پر ٹیکس کا سلیب مختلف ریاستوں میں صفر سے لے کر 7 فیصد تک تھا۔ کیرالہ، جموں و کشمیر پنجاب اور ہریانہ میں اس پر کوئی ٹیکس نہیں تھا، ایسے میں ان ریاستوں میں کسانوں پر جی ایس ٹی کی مار پڑے گی، کیونکہ جراثیم کش ادویات پر کھاد اور بیج پر جو چھوٹ مل رہی ہے ، وہ ختم ہو جائے گی۔ کھاد پر 5 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔

جی ایس ٹی کے بعد کھیت کھلیانوں پر راحت نہیں بلکہ آفت کی ہوگی بارش

جراثیم کش پر جی ایس ٹی سے پہلے 12.5 فیصد ایکسائز لگتا تھا، لیکن اب اس پر 18 فیصد ٹیکس لگے گا۔ اس سے تمام جراثیم کش دوائیں مہنگی ہو جائیں گی ۔ ٹریکٹر کے پارٹس پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا، جو پہلے 5 سے 17 فیصد تک تھا۔ یعنی ٹریکٹر لینا بھی مہنگا ہو جائے گا۔

راشٹریہ کسان مزدور سنگھ کی کور ٹیم کے رکن بنود آنند کا کہنا ہے کہ ایک ایکڑ میں یوریا پر 63 روپے، ڈی اے پی پر 392 روپے، جراثیم کش ادویات پر 239 روپے اور هارویسٹنگ-ٹرانسپورٹ 420 روپے کی مہنگا ہو جائے گا۔

Goods and services tax

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز