ہندوستان کوعالمی ترقی کے انجن کے طور پر دیکھا جاتا ہے: ارون جیٹلی

Feb 01, 2017 03:44 PM IST | Updated on: Feb 01, 2017 03:44 PM IST

نئی دہلی۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے آج پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو عالمی ترقی کے انجن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سال کا بجٹ اپنی نوعیت کا واحد بجٹ ہے جس میں ریلوے بجٹ بھی شامل ہے۔ اس سال کے عام بجٹ میں کوئی منصوبہ اور غیر منصوبہ جاتی درجہ بندی نہیں ہے اور اسے مقررہ وقت سے ایک مہینے قبل فروری کے اوائل میں پیش کیا گیا ہے۔ مسٹر جیٹلی نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ حکومت کاایجنڈا ‘‘تبدیل کرنا ، توانائی بخشنا اور صاف ہندوستان’’ (ٹی ای سی) ہے150 انہوں نے کہا کہ بہتر معیار زندگی کے لیے حکمرانی کے معیار کو تبدیل کرنا ایجنڈا ہے۔ اس کا مقصد سماج کے مختلف طبقات بالخصوص نوجوانوں اور کمزور طبقات کو توانائی بخشنا اور ملک کو بدعنوانی، کالا دھن اور غیر شفاف سیاسی فنڈنگ کی لعنت سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد دیہی علاقوں ، بنیادی ڈھانچے اور غریبی کے خاتمے پر زیادہ خرچ کرنا ہے۔ ساتھ ہی معاشی ترقی کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ معاشی اصلاحات جاری رہیں گی تاکہ مزید سرمایہ کاری، غریبوں اور کمزور طبقات کے فائدے کے لیے ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔  جیٹلی نے اعلان کیا کہ سال 18۔2017 میں دس لاکھ کروڑ کے ریکارڈ زرعی کریڈٹ کاہدف رکھا گیا ہے۔پانچ ہزار کروڑ روپے کے بنیادی فنڈ کے ساتھ ایک چھوٹی آبپاشی کا فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ فی بوند مزید فصل کے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بنیادی فنڈ کے ساتھ 40 ہزار کروڑ روپے کے ایک طویل مدتی آبپاشی کا فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کانٹریکٹ کاشت کاری کے تعلق سے ایک ماڈل قانون مرتب کیا جائے گا اور یہ سبھی ریاستوں کے لیے لاگو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیری کی پروسیسنگ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ جس کا بنیادی فنڈ 8 ہزار کروڑ روپے کے بقدر ہوگا ، نبارڈ میں قائم کیا جائے گا۔ ابتداً اس فنڈ کو دو ہزار کروڑ روپے سے شروع کیا جائے گا۔  ارون جیٹلی نے اعلان کیا کہ حکومت ایک کروڑ غریب مکینوں کا احاطہ کرنے کے لیے مشن انتودیہ شروع کرے گی۔ سال 2019 تک پچاس ہزار گرام پنچایتوں کو غریبی سے پاک بنائے گی۔ اس سال گاندھی جی کا 150واں یوم پیدائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سالانہ اضافے اور چھوٹے منصوبہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے موجودہ وسائل کو مزید موثر طریقے سے استعمال کرنے کا طریقہ کار ہے۔ تاکہ کمزور طبقات کے لیے پائیدار روزگارپیدا کیا جا سکے۔

ہندوستان کوعالمی ترقی کے انجن کے طور پر دیکھا جاتا ہے: ارون جیٹلی

ارون جیٹلی لوک سبھا میں 2017 کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے۔

کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے ہمارے عزم کومنریگاکے تحت مدد بہم پہنچانے کے لیے مارچ 2017 تک پانچ لاکھ ہدف کے برعکس تقریباً 10 لاکھ تالاب تیار ہونے کی توقع ہے۔ اس سے گرام پنچایتوں میں قحط سالی کی صورت میں مدد ملے گی۔منریگا کے تحت سال 17۔2016 کے لیے مختص کردہ 38500 کروڑ روپے کو سال 18۔2017 میں بڑھا کر 48000 کروڑ روپیہ کر دیا گیا ہے۔ یہ منریگا کے لیے مختص ہونے والی رقم میں سب سے بڑی رقم ہے۔ پردھان منتری سڑک گرام یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کی تعمیر کی رفتار میں تیزی آئی ہے اور 17۔2016 میں اس کی تعمیر کی رفتار بڑھ کر 133 کلومیٹر یومیہ ہوگئی ہے جبکہ 14۔2011 کے دوران اس کی رفتار اوسطاً 73 کلومیٹر تھی۔ جناب ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت پی ایم جی ایس وائی کے تحت موجود ہدف کو 2019 تک پورا کرنے کے تئیں پابند عہد ہے۔18۔2017 تک اس اسکیم پر 19 ہزار کروڑ روپے اور ریاستوں کے تعاون کو شامل کرکے 27 ہزار کروڑ روپے 18۔2017 میں اس پر خرچ کئے جانے ہیں۔ پردھان منتری آواس یوجنا۔ گرامین کے لئے18۔2017 کے لئے 23 ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ 17۔2016 میں اس کے لئے 15 ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت بے گھروں اور کچے مکانوں میں رہنے والے افراد کے لئے 2019 تک ایک کروڑ مکانات کی تعمیر کا عمل مکمل کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم روزگار تخلیق پروگرام (پی ایم ای جی پی) اور کریڈٹ سپورٹ اسکیموں کے لئے مختص کی گئی رقم میں تین گناہ اضافہ کیا گیا ہے۔

 ارون جیٹلی نے کہا کہ 18۔2017 کے لئے دیہی ، زرعی اور متعلقہ شعبوں کے لئے 187223 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے 24 فیصد زیادہ ہیں۔ عوام کے فائدے کے لئے تعلیم اور ہنرمندی کے شعبے میں متعدد نئے اقدامات کا اس بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے۔ پردھان منتری کوشل کیندر (پی ایم کے کے کے ) کو فی الحال 60 سے زیادہ اضلاع میں پروموٹ کیا گیا ہے اور اسے بڑھاکر پورے ملک کے 600 اضلاع میں کرنے کی تجویز ہے۔سنکلپ یعنی اسکل ایکویزیشن اینڈ نالیج اویرنیس فار لائیو لی ہوڈ پروموشن پروگرام کا مقصد ساڑھے تین کروڑ نوجوانوں کو بازار سے مناسب رکھنے والی تربیت فراہم کرنا ہے۔ اس کے لئے بجٹ میں 4000 کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسکل اسٹرینگ دیننگ فار انڈسٹریل ویلیو انہانسمنٹ (ایس ٹی آر آئی وی ای۔ اسٹرائیو) بھی 18۔2017 میں شروع کی جائے گی جس پر 2200 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ اس کا مقصد آئی ٹی آئی میں دی جانے والی پیشہ ورانہ تربیت کو میعاری اور بازار کی ضرورتوں کے موافق بنانا ہے۔ اس کا مقصد صنعتی کلسٹر کے تصور کے توسط سے اپرینٹس شپ پروگراموں کو تقویت دینا بھی ہے۔ ایک خود مختار اور خود کفیل ممتاز ٹسٹنگ تنظیم کی حیثیت سے ایک قومی ٹسٹنگ ایجنسی کے قیام کی بھی تجویز ہے۔ اس کے قیام کا مقصد ملک میں اعلی تعلیمی اداروں کے لئے سبھی داخلہ جاتی امتحانات منعقد کرانا ہے۔اطلاعاتی ٹکنالوجی کو فروغ دینے کے لئے ایس ڈبلیو اے وائی اے ایم۔ سوئم کے نام سے ایک پروگرام لانچ کرنے کی تجویز ہے۔ تاکہ بہترین اساتذہ کے ذریعہ آن لائن 350 کورسز کی تعلیم دی جاسکے۔ اس سے بصری طور پر ان کورسوں میں طلبا کے شامل ہونے اور معیاری تعلیم حاصل کرنے ، مباحثہ جاتی فورموں میں شرکت کرنے، ٹسٹ لینے اور اکیڈمک گریڈ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اعلی تعلیم کے لئے یو جی سی میں اصلاحات اور سیکنڈری تعلیم میں بہتری کے لئے ایک انوویشن فنڈ شروع کرنے کی تجویز ہے جس سے مقامی سطح پر اختراعات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ابتدا میں اس ضمن میں 3479 تعلیمی اعتبار سے پسماندہ بلاکوں پر توجہ مرکوز کرنے کا پروگرام ہے۔ اسکولوں کے لئے تعلیمی نصاب میں لچیلا پن لانے کی تجویز ہے تاکہ مقامی اختراعاتی مواد کے توسط سے تخلیقیت کو فروغ دیا جاسکے۔ اس میں خصوصی زور سائنس کی تعلیم اور ایک ایسے نظام کو متعارف کرانے پر ہوگا جس سے سالانہ سیکھنے سے متعلق نتائج کا اندازہ لگایا جاسکے۔

ارون جیٹلی نے اعلان کیا کہ گاؤں کی سطح پر 14 لاکھ آئی سی ڈی ایس آنگن واڑی مراکز میں 500 کروڑ روپے کی لاگت سے مہیلا شکتی کیندر قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کیندروں کے قیام کا مقصد دیہی خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں ہنرمندی کے فروغ، روزگار، ڈیجیٹل خواندگی، صحت اور تغذیہ کے حصول کے مواقع دستیاب کرانا ہے۔ وزیراعظم کے حاملہ خواتین سے متعلق 31 دسمبر 2016 کے اعلان کو یاد کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس قومی اسکیم کے ایک حصے کے طور پر حاملہ خواتین اسپتال میں زچگی ، ٹیکہ کاری اور ان کے بچوں کی ٹیکہ کاری کے لئے امدادی طور پر 6000 روپے براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کرائے جائیں گے۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور یہ بجٹ 17۔2016 کے 156528 کروڑ روپے سے بڑھاکر 18۔2017 میں 184632 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ ملک بھر کے صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنے کے ایک حصے کے طور پر، وزیرخزانہ نے جھارکھنڈ اور گجرات میں آل انڈیاانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کھولنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طبی تعلیم اور ہندوستان میں رائج پریکٹسوں کے ریگولیٹری فریم ورک میں ڈھانچہ جاتی تبدیلی کے لئے ضروری اقدام اٹھانے کے لئے پرعزم ہے۔ اس میں متعدد اقدام شامل ہیں جن میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سیٹوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ درج فہرست ذاتوں کی بہبود کے لئے بجٹ17۔2016 میں مختص شدہ رقم 38833 کروڑ روپے سے بڑھاکر 18۔2017 میں 52393 کروڑ روپے کردیا گیا ہے جو تقریباً 35 فیصدی کے مساوی ہے۔ درج فہرست قبائل کی بہبود کے لئے 31920 کروڑ روپے رقم اور اقلیتوں کے امور کی بہبود کے لئے 4195 کروڑ روپے بجٹ میں مختص کئے گئے ہیں۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ اس سیکٹر میں اخراجات کی نگرانی حکومت نیتی آیوگ سے کرائے گی۔

tax

وزیر خزانہ نے زور دے کر کہا کہ اس سال کے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے میں طے شدہ ایجنڈہ پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اس سال کے بجٹ میں تجاویزشامل کی گئی ہیں اور حکومت اس کے لئے عہد بستہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس کے مطابق انفرااسٹرکچر ترقی کے لئے 18۔2017 میں کل 396135 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے 241387 کروڑ روپے ریل، سڑک اور جہاز رانی پر صرف کئے جائیں گے۔ سال 18۔2017 میں ریلوے پر مجموعی سرمایہ جاتی اور ترقیاتی خرچ 131000 کروڑ روپے ہوگا۔ اس میں سے 55000 کرو ڑ روپے حکومت دستیاب کرائے گی۔ 17۔2016 کے 2800 کلومیٹر کے مقابلے 18۔2017 میں 3500 کلومیٹر ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع کیا جائے گا۔ پانچ سال کی مدت کے دوران ایک کروڑ روپے کے بنیادی سرمائے سے ایک راشٹریہ ریل سنگھ رکشا کوش شامل کیا جائے گا۔ اس فنڈ کا مقصد مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس فنڈ سے رقم خرچ کرکے حکومت طے شدہ مدت کے دوران متعدد حفاظتی کاموں کی تکمیل کے لئے واضح رہنما ہدایات وضع کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹیئر 2شہروں میں چنندہ ہوائی اڈوں کے آپریشن اور رکھ رکھاوکا کام سرکاری و نجی شراکت داری میں کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 18۔2017 کے آخر تک 150000 سے زائد گرام پنچایتوں میں آپٹیکل فائبر میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ کنکٹیویٹی مہیا ہوگی۔ اس میں وائی فائی ہاٹ اسپاٹ کی سہولت اور ڈیجیٹل خدمات تک رسائی نہایت کم قیمتوں میں ہوگی۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 17۔2018 میں بھارت نیٹ پروجیکٹ کے لیے بجٹ کو بڑھا کر دس ہزار کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ بھارت نے نیٹ پروجیکٹ کے تحت ایک لاکھ 55 ہزار کلومیٹر میں پہلے ہی آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے ذریعے ٹیلی میڈیسن ، تعلیم اور ہنر کو مہیا کرانے کے ڈیجی گاوں پہل کی شروعات کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے ہمارے توانائی کے شعبے کو بھی مستحکم کرنے کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب مزید 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیداوار کی صلاحیتوں والی شمسی توانائی کی ترقی کے دوسرے مرحلے کو شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مرحلے میں حکومت نے اسٹریٹیجک حامل کے دو مزید خام تیل کے ذخائر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے قائم شدہ تین تیل ذخائر کے علاوہ اڈیشہ کے چنڈی کھولے اور راجستھان کے بیکانیر میں تیل کے ایک ایک ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

 ارون جیٹلی نے اعلان کیا کہ ہماے مالی شعبہ کے ایک کمپیوٹر انرجی رسپانس ٹیم (سی سی آر ٹی۔فن) تشکیل دی جائے گی اور یہ تمام مالی شعبہ کے ریگو لیٹروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز