مسلم لیڈران کے ساتھ ملاقات میں راہل گاندھی نے نرم ہندوتوا کی سیاست کو کیا خارج

Jun 06, 2017 03:14 PM IST | Updated on: Jun 06, 2017 03:14 PM IST

نئی دہلی۔ 2014 کے عام انتخابات کے بعد سے اپنی تاریخ کے انتہائی بدترین دور سے گزر رہی کانگریس پارٹی ایک بار پھر سے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے اور اپنی مردہ ہوتی روح میں جان پھونکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرتی نظر آ رہی ہے۔ اسی ضمن میں اس نے گزشتہ روز نئی دہلی کے 15 گرودوارہ رکاب گنج میں پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کی زیر قیادت اقلیتوں بالخصوص مسلم لیڈران کے ساتھ خصوصی میٹنگ کی جس میں راہل گاندھی کے علاوہ، سینئر لیڈران میں کانگریس کے جنرل سکریٹری اے کے انٹونی، کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل، پارٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر شکیل احمد، سینئر لیڈرمحسنہ قدوائی، سابق مرکزی وزیر کے رحمان خان، پارٹی کے قومی ترجمان م افضل، راشد علوی، قومی اقلیتی شعبہ کے چئیرمین خورشید احمد سید اور عمران قدوائی کے علاوہ بہار سے شکیل احمد خان، یوپی سے عمران مسعود، ندیم جاوید، ممبئی سے نسیم احمد خان، ہریانہ سے آفتاب احمد، دہلی سے ہارون یوسف، چودھری متین اور حسن احمد سمیت 125 اقلیتی لیڈران نے شرکت کی۔

انقلاب کی ایک تفصیلی خبر کے مطابق، 2019 میں بی جے پی سے مقابلہ آرائی کے لئے منعقدہ اقلیتوں کی اس خصوصی میٹنگ میں مسلم لیڈران کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے نرم ہندوتوا کے ایجنڈے پر نہ کبھی سیاست کی تھی، نہ کی ہے اور نہ ہی مستقبل میں وہ ایسا کرے گی۔ راہل گاندھی نے دو ٹوک لہجہ میں کہا کہ گانگریس پارٹی گاندھی، نہرو اور آزاد کے سیکولر نظریہ پر رہ کر ہی اپنا سیاسی سفر طے کرے گی خواہ اس میں کتنے ہی نشیب وفراز کیوں نہ آئیں۔ انقلاب نے ذرائع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ تقریباً ڈھائی سے تین گھنٹہ تک جاری اس میٹنگ میں راہل گاندھی نے سب سے پہلے اپنی بات رکھتے ہوئے 2014 کی شکست کے بعد پیش کی گئی انٹونی رپورٹ پر اپنی وضاحت دی۔ انہوں نے کہا کہ انٹونی رپورٹ کے سلسلہ میں یہ غلط بات پھیلائی گئی تھی کہ اس رپورٹ میں شکست کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اکثریتی طبقہ میں یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئے کہ کانگریس مسلمانوں پر زیادہ دھیان دے رہی ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا نظریہ کمزروں کے خلاف غصہ اور نفرت پھیلانا ہے اور ایسا ماحول بنانا ہے کہ لوگ اقلیتوں کی بات کرنا بند کر دیں۔

مسلم لیڈران کے ساتھ ملاقات میں راہل گاندھی نے نرم ہندوتوا کی سیاست کو کیا خارج

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی: فائل فوٹو

ذرائع کے مطابق، راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے کئی سینئر لیڈر میرے پاس آئے تھے اور نرم ہندوتوا پر چلنے کی بات کہی تھی جس پر میں نے جواب دیا کہ نرم ہندوتوا کانگریس کے ایجنڈہ میں نہ تو کبھی تھا، نہ ہے اور نہ رہے گا۔ کانگریس گاندھی، نہرو اور آزاد کے سیکولر نظریہ پر چلے گی اور اس میں ملک کے آئین کی بالا دستی ہو گی۔ راہل نے کہا کہ مودی اور امت شاہ کا ایجندا اکثریت کو پولرائز کرنے کا ہے مگر آج بھی 2014 میں بی جے پی کو صرف اکتیس فیصد لوگوں نے ہی ووٹ دیا اور یوپی میں بھی بی جے پی کا ووٹ فیصد نہیں بڑھا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ہندوستان کی اکثریت آج بھی کانگریس اور سیکولر ہندوستان کے ساتھ ہے۔

انقلاب کے مطابق، راہل گاندھی نے اپنے تمام مسلم لیڈران کو ہدایت دی ہے کہ وہ جمعیتہ علما ہند جیسی ملک کی دیگر ملی اور سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کے ساتھ  مل کر ہی موجودہ لڑائی کو لڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حق کی بات ہو، ٹکٹوں میں ان کی حصہ داری کا معاملہ ہو ، لیکن یہ خیال رہے کہ اپیزمنٹ کے حملہ سے خود کو محفوظ رکھا جائے اور اس کے لئے لوگوں کے درمیان بے باکی سے بات پہنچائی جائے۔

میٹنگ میں راہل گاندھی کی طرف سے ایک پرچہ تقسیم کیا گیا جس میں ہر ایک لیڈر کو اپنی ریاست کے پانچ معروف اور ممتاز مسلم شخصیات کے نام دینے کو کہا گیا ہے اور اسی میں اپنی ریاست کے نوجوان سرگرم مسلم لیڈر کا نام درج کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز