اس ہندوستانی خاتون کے ہیں 23 بچے، مشکل سے یاد رہ پاتا ہے 18 کا نام

Jul 11, 2017 06:30 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 06:30 PM IST

نئی دہلی۔ میوات ضلع کی بسسر عرف بسم اللہ صرف اپنے 18 بچوں کا نام ہی لے پاتی ہیں۔ ان کے 23 بچے ہیں سب کے نام یاد رہیں بھی تو کس طرح۔ یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ بالکل سچی بات ہے۔

بسسر ملک کی راجدھانی دہلی سے ملحق میوات ضلع کے اكیڑا گاؤں میں رہتی ہیں۔ میوات میں یہ کہانی صرف بسسر ہی کی نہیں ہے۔ یہاں آبادی کنٹرول کی ہر کوشش دم توڑ دیتی ہے۔ اس ضلع میں ہر خاندان میں 10-12 بچے عام بات ہیں۔

اس ہندوستانی خاتون کے ہیں 23 بچے، مشکل سے یاد رہ پاتا ہے 18 کا نام

اتنے بچوں کے بارے میں بسسر کا کہنا ہے کہ 'مجھے اتنی سمجھ تو تھی کہ بچے کم پیدا کروں، لیکن اس کے لئے ضروری وسائل کے بارے میں معلوم نہیں تھا، کچھ ڈر بھی تھا کہ اسلام میں ان سب چیزوں پر پابندی ہے۔ لہذا اتنے بچے ہوئے۔

بسسر کا سب سے بڑا بیٹا 34 سال کا ہے اور سب سے چھوٹا بیٹا 2009 میں پیدا ہوا ہے۔ ان 23 بچوں میں سے 14 لڑکیاں ہیں۔ بسسر کے بیٹے سكرالدين نے کہا کہ 'اس کا خاندان مزدوری سے چلتا ہے۔ گھر میں سب سے زیادہ پڑھائی لکھائی چھٹی کلاس تک ہوئی ہے۔ '

بچوں کی ماں بسسر عرف بسم اللہ بچوں کی ماں بسسر عرف بسم اللہ

وہ کہتے ہیں کہ 'ہم لوگوں کی غربت ختم کرنے کے لئے حکومت نے کبھی کچھ نہیں کیا۔ ہمیں مزدوری کے علاوہ کوئی کام نہیں ملتا۔

میوات کے سماجی کارکن رازالدین جنگ کہتے ہیں کہ میوات میں 80 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ انہوں نے کبھی آبادی کنٹرول پروگرام پر توجہ نہیں دی۔ غربت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ اگر بسسر کے کم بچے ہوتے تو شاید وہ انہیں پڑھا لکھا پاتی۔

بچوں کی ماں بسسر عرف بسم اللہ کا آدھار کارڈ بچوں کی ماں بسسر عرف بسم اللہ کا آدھار کارڈ

رازالدين کہتے ہیں کہ یہاں کے مولانا آبادی کنٹرول بیداری کے پروگرام نہیں ہونے دیتے کیونکہ اسے اسلام میں گناہ شمار کیا گیا ہے۔ میوات میں لوگوں کو کافی سمجھا-بجھا کر 102 نسبندی کروائی گئی۔ یہاں کے لوگوں کو نسبندی کرانے کے لئے ترغیب دینا بہت مشکل ہے۔

یہاں خاندانوں میں لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ 2014 تک ایک خاندان میں بچوں کی تعداد کا اوسط آٹھ تھا۔ ایسے میں اب یہاں آبادی کنٹرول کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

نسبندی کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر سماجی کارکن رازالدین کو ملا تعریفی خط نسبندی کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر سماجی کارکن رازالدین کو ملا تعریفی خط

آپ کو بتا دیں کہ میوات میں فی شخص اوسط سالانہ آمدنی 45934 روپے ہے جو کہ ہریانہ میں سب سے کم ہے۔ یہاں خواتین کی شرح تعلیم صرف 36.60 فیصد ہے۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز