ہفتہ سے بدل جائیگا انکم ٹیکس سلیب ، جانیں آپ کو کہاں ہوگا فائدہ اور کہاں نقصان ؟

فائنانس بل 2017 کے لوک سبھا میں منظور ہونے کے ساتھ ہی انکم ٹیکس میں کئی اہم تبدیلیوں کے ساتھ ہی یہ بل یکم اپریل سے نافذ ہوجائے گا

Mar 26, 2017 07:19 PM IST | Updated on: Mar 26, 2017 07:19 PM IST

نئی دہلی: فائنانس بل 2017 کے لوک سبھا میں منظور ہونے کے ساتھ ہی انکم ٹیکس میں کئی اہم تبدیلیوں کے ساتھ ہی یہ بل یکم اپریل سے نافذ ہوجائے گا اور پانچ لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی والوں کو 12500 روپے کی بچت ہوگی۔ گزشتہ ہفتے لوک سبھا نے اس بل کو منظوری دے دی ہے اور آئندہ ہفتے راجیہ سبھا میں اسے بحث کے لئے رکھا جائے گا۔ فائنانس بل 2017 کے ذریعے انکم ٹیکس میں جو اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں اس کے مطابق ابھی 2.5 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی پر 10 فیصدٹیکس دینا پڑتا ،لیکن یکم اپریل سے یہ پانچ فیصد ہو جائے گا اور اس طرح ٹیکس دہندگان کو 12500 روپے کی بچت ہو گی۔

اس کی دفعات کے مطابق ریٹرن فائل کرنے میں تاخیر کرنے پر 10 ہزار روپے تک کا جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے۔ جو سرمایہ کار 2017-18 کے لئے انکم ٹیکس ریٹرن 31 دسمبر 2018 تک دیں گے، انہیں پانچ ہزار روپے کا جرمانہ دینا ہوگا۔ اس کے بعد ریٹرن فائل کرنے پر 10 ہزار روپے جرمانہ لگے گا ،لیکن پانچ لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان کے لئے ایک ہزار روپے کی رقم کا انتظام کیا گیا ہے۔

ہفتہ سے بدل جائیگا انکم ٹیکس سلیب ، جانیں آپ کو کہاں ہوگا فائدہ اور کہاں نقصان ؟

اس تبدیلی کے بعد پانچ لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی والوں کوریٹرن فائل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس کے لئے ایک صفحے پر مشتمل ٹیکس ریٹرن فارم لایا جائے گا اور اس زمرے میں جو ٹیکس دہندگان پہلی مرتبہ ٹیکس کی ادائیگی کریں گے ان کی جانچ پڑتال نہیں کی جائے گی۔ فائنانس بل میں شامل کئے گئے دفعات کے تحت اب جائیداد میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی مدت کو تین سے کم کر کےدو سال کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب دو سال کے بعد اس املاک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز