ہند - چین کے درمیان ڈوکلام میں طویل عرصہ تک تعطل رہ سکتا ہے برقرار ، فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم

ڈوكلام میں ہندستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان گزشتہ تقریبا دو ماہ سے پیدا ہوئی 'نو وار نو پیس کی صورتحال میں دونوں فریقوں کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کی وجہ سے فی الحال کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

Aug 20, 2017 01:17 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 02:51 PM IST

نئی دہلی: ڈوكلام میں ہندستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان گزشتہ تقریبا دو ماہ سے پیدا ہوئی 'نو وار نو پیس کی صورتحال میں دونوں فریقوں کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کی وجہ سے فی الحال کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سکم سے ملحقہ بھوٹان اور چین کے ٹرائی جنكشن علاقے ڈوكلام میں چین کی سڑک بنانے کی کوشش کو ہندستان کی طرف سے ناکام کئے جانے سے پیدا تعطل نے دونوں ممالک کے درمیان نسبتا پرسکون ماحول کو کشیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ سرحد پر چاہے جنگ کی کوئی ہلچل نہ نظر آرہی ہو ، لیکن دونوں طرف کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پوری تیاری کی بات کہی جارہی ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اور ہندستان کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کی وجہ سے تعطل فی الحال دور ہونے کا امکان نہیں ہے اور یہ طویل عرصہ تک رہ سکتا ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ چین بات چیت سے اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے ہر روز نئے نئے ہتھ کنڈے اپنارہا ہے۔ چین کے جارحانہ موقف کے باوجود ہندستان اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی موقع کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار صورتحال مختلف ہے اور بار بار ہندستانی سرحدوں میں گھسنے والا چین اس بار الٹے ہندستان پر اس کی سرحد میں گھسنے کا الزام لگا رہا ہے۔

ہند - چین کے درمیان ڈوکلام میں طویل عرصہ تک تعطل رہ سکتا ہے برقرار ، فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم

photo : AFP

ہندستان ٹرائی جنكشن علاقے سے جڑے تنازعات کا حل متعلقہ معاہدوں کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے تو اسی لئے وہ اس کے مطابق گذشتہ 16 جون سے پہلے کی پوزیشن برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ چینی فوجیوں نے 16 جون کو ڈوکلام میں ایک سڑک بنانے کی کوشش کی۔ وزیرخارجہ سشما سوراج نے ہندستان کا موقف واضح کیا ہے کہ اس مسئلہ کا حل جنگ نہیں ہے اور بات چیت سے ہی حل نکلتا ہے۔ امریکہ اور روس جیسے بڑے ممالک نے بات چیت کے ذریعے دونوں کو مسئلے کا حل نکالنے کو کہا ہے۔ بھوٹان کے ذریعہ ڈوکلام کو اپنی زمین بتائے جانے اور جاپان کی طرف سے اس مسئلے پر ہندستانی موقف کی کھل کر حمایت کرنے سے ہندستان کے موقف کو تقویت ملی ہے۔

دوسری جانب، چین اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بات چیت کی کسی بھی پہل سے قبل ، ہندستان اپنے فوجیوں کو ڈوکلام کے علاقے سے نکالے ۔ وہ ہندستانی فوجیوں پر اسکے علاقے میں گھسنے کا الزام لگاتے ہوئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔اس دباؤ کا اثر نہ دیکھ کر ، وہ کبھی براہ است تو کبھی میڈیا کے ذریعہ، یا دیگر ذرائع سے تقریبا روزانہ نئی دھمکی دے رہا ہے۔ چین کے ساتھ ملحقہ سرحد پر 12 مقامات پر تنازعہ ہے جس میں ہر جگہ چین مختلف موقف اختیار کرتا ہے ۔ اگر ایک جگہ اسکا رویہ دوستانہ ہے، تو دوسری جگہوں پر اسکا انداز جارحانہ نظر آتا ہے۔

Loading...

اس تنازعے میں خاص بات یہ ہے کہ چین کا کہنا ہے کہ سکم میں ہندستان اور اس کے درمیان سرحد کے بارے میں کوئی مختلف نظریہ نہیں ہے اور تعطل والا مقام ٹرائی جنکشن نہیں ہے۔ لہذا، ہندستانی فوج کا وہاں رہنا چین کے اقتدار اعلی کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ جبکہ ہندستان کا کہنا ہے کہ ڈوکلام میں 89 مربع کلومیٹر علاقہ متنازعہ ہے، جس پر چین اور ہندستان کا دعوی ہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے بھی ٹرائی جنکشن کے تعلق سے ہندستان اور چین کا نظریہ مختلف ہے۔

ڈوکلام میں یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ چار سال قبل، 2013 میں چینی اور ہندستانی فوجی ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے تھے ، اور اس وقت بھی یہ تعطل 20 دن تک جاری رہا تھا۔ بعد میں، دونوں فریقوں نے اپنے اپنے فوجیوں کو ایک ساتھ ہٹا تھا۔ باخبر ذرائع کی مانیں تو اس بار بھی جب چین کے فوجیوں نے ڈوكلام میں ہندوستانی فوج کے پرانے بنکروں کو تباہ کیا تو ہندستان نے سرحد سے متعلق مختلف نظریات کی وجہ سے سوچ سمجھ کر اس کی مخالفت نہیں کی تھی ۔ بنکروں کو تباہ کرنے کا واقعہ چینی فوج کی طرف سے سڑک بنانے کی کوشش کے قریب دس دن پہلے ہواتھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ تعطل بھی دونوں ممالک کے مقامی کمانڈروں کی طرف سے حل کیا جا سکتا تھا لیکن اس میں تیسرے ملک بھوٹان کے شامل ہونے اور معاملہ بیجنگ اور نئی دہلی چلے جانے کی وجہ سے الجھ گیا اور اس میں کئ نئے پہلو شامل ہوگئے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈوکلام میں فوجی تصادم کا امکان نہ کے برابر ہے کیونکہ ہندستانی فوج کی پوزیشن بہت اچھی ہے اور چینی فوج زیادہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لہذا، اس تنازع کا حل یہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کی فوجیں وہاں سے ہٹ جائیں ، لیکن اب اس معاملے میں قومی وقار کا جذبہ دونوں ممالک میں پیدا ہو چکا ہے اور کوئی فریق عوام کی نظر میں شکست خوردہ نہیں دکھنا چاہتا ۔ اس لئے اس مسئلے کے حل میں ابھی وقت لگے گا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز