بی جے پی لیڈر کا انتہائی متنازع بیان ، ہندوستان مسلمانوں کا ملک نہیں ، مکہ اور مدینہ جانے سے روکا جائے

Jul 13, 2017 07:22 PM IST | Updated on: Jul 13, 2017 07:22 PM IST

مہوبہ : امرناتھ یاتریوں پر جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد سے سیاسی لیڈروں کی متنازع بیان بازی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے ۔ اب یوگی کے ایک ممبر اسمبلی نے مسلمانوں کو لے کر انتہائی متنازع بیان دیا ہے ، جس کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے۔

اتر پردیش کے مہوبہ ضلع کی چرکھاری اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی برج بھوشن عرف گڈو راجپوت نے فیس بک پر ایک لائیو پروگرام میں کہا کہ ہندوستان مسلمانوں کا ملک نہیں ہے، 100 کروڑ ہندو چاہ لیں گے تو 20 کروڑ مسلمانوں کو بھگا دیں گے۔ یہی نہیں مسلمانوں کو ان کے مقدس مقام مکہ اور مدینہ بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔

بی جے پی لیڈر کا انتہائی متنازع بیان ، ہندوستان مسلمانوں کا ملک نہیں ، مکہ اور مدینہ جانے سے روکا جائے

بی جے پی ممبر اسمبلی یہیں پر نہیں رکے اور انہوں نے رام مندر مسئلہ کو بھی گرماتے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں رام مندر تعمیر کی جائے گی ۔ سو کروڑ ہندو مندر بنائیں گے اور اگر مسلم مندر بنانے میں رکاوٹ پیدا کریں گے تو مسلمانوں کو بھی مکہ اور مدینہ نہیں جانے دیا جائے گا۔ مسلمانوں کو مکہ مدینہ جانے سے روکا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان ہندوؤں کے کام میں رخنہ ڈالتے ہیں، مسلمانوں کو حج پر جانے سے روکا جائے، حج سبسڈی بھی ختم ہونی چاہئے ، ان کے ریزرویشن کو ختم کیا جانا چاہئے، مسلمان اب اقلیت میں نہیں ہیں ، مگر انہیں ریزرویشن کا فائدہ مل رہا ہے۔

بی جے پی لیڈر کے اس بیان کی چوطرفہ تنقید کی جارہی ہے ۔ کانگریس کے لیڈر آنند شرما نے یوگی کے ممبر اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر حکمراں جماعت کے لیڈران اس طرح کی بات کرتے ہیں ، تو وزیر اعظم اور پارٹی صدر کی جوابدہی تو بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گئوركشكوں پر سخت کارروائی ہونی چاہئے، اگر لیڈر نے ایسا بیان دیا ہے تو انہیں پارٹی سے نکال دینا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز