ہندوستان کو ہر صورت میں پاکستان اور کشمیریوں سے بات کرنی پڑے گی: فاروق عبداللہ

Jul 29, 2017 08:27 PM IST | Updated on: Jul 29, 2017 08:27 PM IST

سری نگر۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی کشمیر کی موجودہ غیر یقینی صورتحال، مبینہ لاقانونیت، اقتصادی بدحالی اور سیاسی خلفشار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور پر حل کرنے سے امن و امان کی مکمل بحالی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی زیادتیوں، ماردھارڈ، انسانی حقوق کی پامالیوں اور سرحدوں پر گن گرج بند ہوسکتی ہے۔ فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں کارکنوں اور عہدیداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے لئے ہندوستان کو ہر صورت میں پاکستان کے ساتھ گفت وشنید کرنی ہی پڑے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اہل کشمیر کے نمائندوں کے ساتھ بھی بات چیت کرنا لازمی ہے کیونکہ کشمیری ہی اس مسئلے کے بنیادی فریق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے برصغیر میں امن و امان اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ ریاست جموں وکشمیر کے لوگ بھی چین کی زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ ظلم و ستم اور جبر و استبداد، ماردھارڈ، دہشت اور غیر یقینیت کی صورتحال کا بھی خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ایک مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے، امن و امان کا فقدان ہے، قیمتی جانوں کی اتلاف روز بہ روز ہوتا جارہا ہے، تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ افہام و تفہیم کا راستہ اپنایا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی تباہی اور بربادی کی نظر نہ ہوجائیں۔ ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370اور ریاست کو حاصل دیگر خصوصی مراعات کو ختم کرنے کے لئے آئے روز کوئی نہ کوئی تماشا دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہم نے پی ڈی پی حکومت کو بار بار جی ایس ٹی کے اطلاق سے روکنے کی کوشش کی، ہر سطح پر اس قانون کے خلاف آواز اُٹھائی، گورنر کو بھی اس بل کے منفی نتائج کے بارے میں آگاہ کیا، آل پارٹی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ اور اُن کے رفقاء ریاست کی مالی خودمختاری پر پڑنے والے اثرات کا خلاصہ پیش کیا، ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی اس کی مخالفت کی لیکن قلم دوات جماعت نے ہماری اور اس قانون کیخلاف احتجاج کرنے والوں کی ایک بھی نہ سنی اور بنا سوچے سمجھے اس قانون کو ریاست پر نافذ کردیا۔

ہندوستان کو ہر صورت میں پاکستان اور کشمیریوں سے بات کرنی پڑے گی: فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ اب ریاست کی وزیر اعلیٰ دلی جا کر مرکزی وزیر خزانہ کی منت سماجت کرکے اس قانون پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کرتی ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں، بھاجپا اور دیگر سنگھ پریوار ریاست کی خودمختاری کو زک پہنچانے کے لئے دہائیوں سے کوشاں تھے اور جموں وکشمیر میں جی ایس ٹی کا اطلاق اُن کی سب سے بڑی کامیابی مانی جاتی ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ ہم نے عوام کو بھی بھاجپا اور پی ڈی پی کے درپردہ عزائم کے بارے میں آگاہ کیا تھا ۔ یہ اتحاد جموں وکشمیر کے لئے تباہ کن ثابت ہورہا ہے۔ ہر بچہ اور ہربزرگ پی ڈی پی کی کشمیر دشمن پالیسیوں سے نالاں ہے۔ پی ڈی پی نے عوامی منڈیٹ کا غلط استعمال کیا اور عوام کے خلاف ہی اعلان جنگ کردیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز