حافظ سعید کی رہائی پر ہندوستان کا شدید رد عمل ، دہشت گردی کو شہ دینے کی پاکستان کی پالیسی برقرار

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے یہاں باقاعدہ بریفنگ میں کہا کہ پاکستان میں تازہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومتی نظام ممنوعہ دہشت گردوں کو اپنی حرکتوں کو جاری رکھنے کےلئے کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کررہا ہے۔

Nov 23, 2017 08:43 PM IST | Updated on: Nov 23, 2017 08:43 PM IST

نئی دہلی: پاکستان میں دہشت گردانہ تنظیم لشکر طیبہ کے سرغنہ حافظ سعید کو رہا کئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے حکومتی نظام نے دہشت گردوں کو تحفظ اور حمایت دینے کی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے یہاں باقاعدہ بریفنگ میں کہا کہ پاکستان میں تازہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومتی نظام ممنوعہ دہشت گردوں کو اپنی حرکتوں کو جاری رکھنے کےلئے کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کررہا ہے۔پاکستان نے حکومت سے الگ ان عناصر کو تحفظ اور حمایت دینے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور اس کا اصلی چہرہ سب کے سامنے آچکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ حافظ سعید جیسے دہشت گردوں کے خلاف موثر اور یقینی کارروائی کرکے بین الاقوامی فرائض کو پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور بین الاقوامی برادری کو ایک ایسے دہشت گرد کو کھلے عام گھومنے دینے اور نفرت کے ایجنڈے کو جاری رکھنے کی اجازت دئے جانے پر غصہ ہے جس نے خود اپنے کارنامے قبول کئے ہیں اور اقوام متحدہ نے اس پر پابندی عائد کی ہے۔

حافظ سعید کی رہائی پر ہندوستان کا شدید رد عمل ، دہشت گردی کو شہ دینے کی پاکستان کی پالیسی برقرار

انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کی رہائی سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی حکومت بین الاقوامی پابندی کے دائرے میں آنے والے دہشت گردوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لانے کے سلسلے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حافظ سعید ممبئی کے 2008 کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔اس حملے میں متعدد ہندوستانیوں اور بین الاقوامی شہریوں کی موت ہوگئی تھی۔وہ پاکستان کے پڑوسی ملکوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ حملون کا ذمہ دار ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز