ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ہندوستان واپس لانے کیلئے ملیشیا سے درخواست کرے گا ہندوستان

Nov 03, 2017 09:17 PM IST | Updated on: Nov 03, 2017 09:17 PM IST

نئی دہلی : معروف اسلامی اسکالر اور اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے بانی ڈاکٹر ذاکر نائیک کی حوالگی کیلئے مودی حکومت ملیشیا سے باضابطہ اپیل کرے گی ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ہندوستان جلد ہی ذاکر نائیک کی حوالگی کیلئے ملیشیا کو ایک باضابطہ درخواست بھیجے گا ، اس سلسلہ میں آئندہ کچھ دنوں میں فیصلہ کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کچھ دنوں قبل ہی ملیشیا کی حکومت نے ڈاکٹر نائک کو اپنے ملک میں پناہ دینے کی بات کہی تھی۔ ملیشیا کے نائب وزیر اعظم احمد زاہد حمید نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر نائیک کو پانچ سال پہلے پرماننٹ ریزیڈینسی دی گئی تھی ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایاتھاکہ ڈاکٹر نائک کو خاص سہولیات نہیں دی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں رہنے کے دوران ڈاکٹر نائک نے کسی بھی قانون کو نہیں توڑا ہے ، ایسے میں انہیں حراست میں لئے جانے یا گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ہندوستان واپس لانے کیلئے ملیشیا سے درخواست کرے گا ہندوستان

نائب وزیر اعظم احمد زاہد حمید مزید کہا تھا کہ دہشت گردی کے سلسلہ میں ہندوستان کی جانب سے ملیشیا کی حکومت کو کوئی آفشیل درخواست نہیں ملی ہے۔ خیال رہے کہ کافی دنوں کے بعد ڈاکٹر نائک کو ملیشیا میں واقع اہم ترین مسجد میں دیکھا گیا تھا ۔ اس مسجد میں وہاں کے وزیر اعظم سمیت متعدد سینئر لیڈران اور سرکردہ شخصیات نماز ادا کرتی ہیں ۔

خیال رہے کہ ہندوستان کی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے 27 اکتوبر کو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی ، جس میں ان پر کئی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ذاکر نائیک کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295۔اے (لوگوں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا)،8 (دیگر مذاپب پر حملہ) اور 505۔بی (لوگوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا) کے تحت چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد یکم جولائی، 2016 کونائیک کی تعلیمات سے انہیں مشتبہ شدت پسندوں کے متاثرہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ . بنگلہ دیش میں دعوی کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے میں ملوث افراد نائیک کی تقریر سے متاثر ہوئے تھے۔این آئی اے نے 18 نومبر، 2016 کو اپنی ممبئی میں نائک کے خلاف یواے پی اے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز