کشمیر : سیکورٹی فورسیز کو بڑی کامیابی ، کولگام میں دہشت گردی مخالف مہم کے دوران 3 جنگجو زندہ گرفتار

کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) منیر احمد خان نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے قاضی گنڈ میں جاری جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تاحال 3 جنگجوؤں کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے۔

Nov 16, 2017 04:04 PM IST | Updated on: Nov 16, 2017 04:04 PM IST

سری نگر: کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) منیر احمد خان نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے قاضی گنڈ میں جاری جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تاحال 3 جنگجوؤں کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں چھپے مزید تین جن میں ایک غیرملکی جنگجو بھی شامل ہے، کی تلاش جاری ہے۔ منیر خان نے جمعرات کو یہاں سینئر فوجی اور سی آر پی ایف عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’قاضی گنڈ کے والٹینگو میں حز ب المجاہدین اور لشکر طیبہ سے وابستہ چھ جنگجوؤں پر مشتمل گروپ کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر جموں وکشمیر کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، فوج اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں منگل کے روز (14 نومبر کو) مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا‘۔

انہوں نے کہا ’تلاشی آپریشن کے دوران جب سیکورٹی فورسز کی نفری ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہی تھی تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین مسلح تصادم چھڑ گیا‘۔ آئی جی پی نے کہا کہ ابتدائی فائرنگ میں 10 ویں سکھ رجمنٹ سے وابستہ ایک فوجی اہلکار اور حزب المجاہدین سے وابستہ مزمل نامی جنگجو ہلاک ہوا۔

کشمیر : سیکورٹی فورسیز کو بڑی کامیابی ، کولگام میں دہشت گردی مخالف مہم کے دوران 3 جنگجو زندہ گرفتار

علامتی تصویر

انہوں نے کہا ’ہم نے ماضی میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلح تصادموں کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’مسلح تصادم کے دوران سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کے دوران ایک جنگجو زخمی ہوا۔ اپنا ایک ساتھی کھونے کے باوجود سیکورٹی فورسز کے اہلکار مذکورہ جنگجو کو اسپتال لے کر گئے‘۔

آئی جی پی نے کہا ’اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے اپنا ایک جوان کھو دیا، ہم نے آپریشن کے دوران تین جنگجوؤں کو زندہ گرفتار کرلیا‘۔ انہوں نے گرفتاریوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ شمس الوقار جس نے رواں برس مئی میں لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی، کو سیکورٹی فورسز نے وانگام میں ایک اے کے 47، کاربائن اور ایک پستول کے ساتھ گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا ’وقار 6 مئی کو ملہ پورہ میں پولیس پارٹی پر حملے کے دن سے سرگرم تھا۔ وہ لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔ وہ دوسرے ایک جنگجو شکور ڈار کے ساتھ مختلف جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے‘۔منیر خان نے کہا ’ لشکر طیبہ سے وابستہ دوسرے ایک جنگجو عطا محمد ملک کو سیکورٹی فورسز نے مسلح تصادم کے مقام پر خون میں لت پت پایا۔ وہ ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا۔ عطا محمد کو سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جہاں اب اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے‘۔

انہوں نے کہا ’اگر اسے اسپتال منتقل نہیں کیا گیا ہوتا تو وہ خون کی کمی کی وجہ سے جاں بحق ہوچکا ہوتا‘۔ خان نے کہا ’جن سیکورٹی فورس اہلکاروں پر اس نے فائرنگ کی، انہوں نے ہی اس کی جان بچالی‘۔انہوں نے کہا کہ بلال شیخ نامی تیسرے ایک جنگجو کو سیکورٹی فورسز نے مسلح تصادم کے مقام پر گرفتار کرلیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ علاقہ میں ایک غیرملکی سمیت تین جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جس کے پیش نظر علاقہ میں جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز