کشمیر کے کپواڑہ میں فوج کے ہاتھوں ایس ایچ او سمیت 2 پولیس اہلکاروں کی پٹائی

Aug 19, 2017 05:03 PM IST | Updated on: Aug 19, 2017 05:03 PM IST

سری نگر۔ شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں فوج نے اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) سمیت جموں وکشمیر پولیس کے دو اہلکاروں کو زدوکوب کیا ہے۔ یہ وادی کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اس نوعیت کا پیش آنے والا دوسرا واقعہ ہے۔ 21 جولائی کی رات کو وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں فوج کی 24 راشٹریہ رائفلز نے پولیس تھانہ گنڈ میں داخل ہو کر جموں وکشمیر پولیس کے 8 اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے علاوہ پولیس تھانے کی املاک کو بھی تہس نہس کردیا تھا۔ وادی میں فوج کے ہاتھوں ریاستی پولیس کے اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے واقعات اس وقت سامنے آرہے ہیں جب دونوں فورسز جنگجو مخالف آپریشنز شانہ بشانہ سر انجام دے رہے ہیں۔ شمالی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فوج کی 41 راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے گذشتہ شام دیر گئے ڈپٹی کمشنر آفس کپواڑہ کے نزدیک ایس ایچ او سمیت ریاستی پولیس کے دو اہلکاروں کو زدوکوب کا نشانہ بنایا۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے نذدیک گذشتہ شام فوجی اہلکاروں نے ایک عام شہری کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی جس کو دیکھ کر شبیر احمد نامی پولیس اہلکار نے فوجیوں کو روکنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس اہلکار کی مداخلت سے فوجی اہلکار غصے میں آگئے اور شبیر احمد کو پیٹنا شروع کردیا۔

انہوں نے بتایا ’فوجی اہلکاروں نے یہاں تک کہ اپنی بندوقوں کا رُخ بھی پولیس اہلکار شبیر احمد کی طرف کیا، تاہم ایش ایچ او طارق احمد نے مذکورہ پولیس اہلکار کے سامنے کھڑے ہوکر فوجیوں سے کہا کہ وہ گولیاں پہلے مجھ پر چلائیں‘۔ ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے مابین تلخ کلامی کے دوران فوجیوں نے پولیس اہلکار شبیر احمد جو کہ مقامی پولیس اسٹیشن کا منشی بھی ہے، کے ساتھ ساتھ ایس ایچ او کو بھی زدوکوب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شبیر احمد کو اس قدر زدوکوب کیا گیا کہ انہیں ضلع اسپتال کپوارہ میں داخل کرانا پڑا۔ ذرائع نے بتایا کہ بعد میں دونوں پولیس اور فوج کے سینئر عہدیداروں نے جائے مقام پر پہنچ کر معاملے کو ٹھنڈا کردیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کپواڑہ شمشیر حسین نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے طرفین کے مابین لڑائی کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طرفین کے مابین معمولی نوعیت کی لڑائی ہوئی ہے اور تمام عہدیداروں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا’معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے‘۔ تاہم پولیس کنٹرول روم کپواڑہ نے واقعے کا لاتعلقی کا اظہار کیا۔ اس واقعہ سے قبل ضلع گاندربل میں 21 جولائی کی رات کو فوج کی 24 آر آر نے پولیس تھانہ گنڈ میں داخل ہو کر جموں وکشمیر پولیس کے 8 اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے علاوہ پولیس تھانے کی املاک کو بھی تہس نہس کردیا تھا۔

کشمیر کے کپواڑہ میں فوج کے ہاتھوں ایس ایچ او سمیت 2 پولیس اہلکاروں کی پٹائی

file photo

دراصل وادی میں جاری سالانہ امرناتھ یاترا کے سلسلے میں گاندربل کے گنڈ علاقہ میں قائم پولیس ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں نے 21 جولائی کی شام دیر گئے کچھ نجی مسافر گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ گاڑیوں میں عام کپڑوں میں سوار فوج کی 24 آر آر کے اہلکاروں اور ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں کے درمیان یاتریوں کے لئے مقرر کردہ کٹ آف ٹائم کو لیکر گرم گفتاری ہوئی تھی۔ بعد ازاں فوجیوں نے پولیس اہلکاروں کو پیٹنا شروع کردیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہاں پر مقامی لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو فوجیوں کے غیض وغضب سے بچا لیا تھا۔ ناکے پر پولیس اہلکاروں کی پٹائی کے بعد درجنوں فوجی اہلکار گنڈ پولیس تھانہ پہنچے تھے اور وہاں پولیس اہلکاروں کی شدید پٹائی کرنے کے علاوہ تھانے کی املاک کو بھی تہس نہس کردیا تھا۔ فوجی اہلکاروں کی پٹائی کی وجہ سے ایک اے ایس آئی سمیت8 پولیس اہلکاروں زخمی ہوگئے تھے۔ واقعہ کے حوالے سے سونہ مرگ اور گنڈ پولیس تھانوں میں فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز