پاکستان گھومنے آئی تھی ، مگر بندوق کی نوک پر کروادی گئی شادی ، ہندوستانی ڈاکٹر عظمی کا بیان

May 08, 2017 06:33 PM IST | Updated on: May 08, 2017 06:34 PM IST

نئی دہلی : اس لڑکی کا بیان سامنے آیا ہے ، جس کو لے کر کہا گیا کہ اسے اسلام آباد کے ہندوستانی ہائی کمیشن میں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ لڑکی نے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان گھومنے آئی تھی لیکن بندوق کی نوک پر پاکستانی شخص طاہر علی کے ساتھ اس کی شادی کروا دی گئی۔

لڑکی کا نام عظمی ہے۔ وہ ایک ڈاکٹر ہے۔ پیر کو عدالت میں اس نے اپنا بیان دیا۔ عظمی نے کہا کہ وہ بحفاظت ہندوستان واپسی تک اسلام آباد میں ہندوستان کے سفارت خانے کو نہیں چھوڑنا چاہتی ہیں ۔ عظمی نے کہا کہ بندوق کی نوک پر اس کی شادی کرواکر اس کے کاغذات رکھ لئے گئے۔ اس نے بتایا کہ ملیشیا میں طاہر کے ساتھ اس کی دوستی ہوئی تھی۔

پاکستان گھومنے آئی تھی ، مگر بندوق کی نوک پر کروادی گئی شادی ، ہندوستانی ڈاکٹر عظمی کا بیان

photo : express .pk

طاہر نے مسترد کیا دعوی

ادھر پاکستانی شخص  طاہر نے عظمی کے دعوی کو پوری طرح سے مسترد کیا ہے۔ تاہم کورٹ نے طاہر کو پورے خاندان کے ساتھ بلایا ہے۔ عظمی کا کہنا ہے کہ جب تک کیس کا نمٹا رہ نہیں ہوجائے گا اس وقت تک ہندوستانی سفارت خانے میں ہی رہیں گی۔خیال رہے کہ طاہر نے پاکستان میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن کے حکام پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اس کی نئی شادی شدہ بیوی کو ہائی کمیشن میں روک رکھا ہے۔ اس کی بیوی ہندوستانی ہے اور وہ شادی کے بعد پاکستان میں رہ رہی ہے۔

دریں اثنا عظمی نے الزام لگایا ہے کہ اس پر ظلم و ستم کیا گیا ہے ۔ اس نے اپیل کی کہ اسے واپس ہندوستان بھیج دیا جائے۔ عظمیٰ نے مقامی عدالت میں 506 ضابطہ فوجداری کی درخواست دائرکی ہے، جس میں اس نے کہا کہ انہیں ہراساں کیا گیا اور اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان سے امیگریشن دستاویزات بھی چھین لی گئی ہیں۔ عظمیٰ نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی شادی گن پوائنٹ پرکروائی گئی، وہ پاکستان میں شادی کرنے نہیں آئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز