ڈاکٹر ممتاز نیر نے زیکا، ڈینگو اور ہیپاٹائٹس سی کے ٹیکے تیار کر کے قوم وملت کا نام کیا روشن

Oct 04, 2017 08:07 PM IST | Updated on: Oct 04, 2017 08:08 PM IST

نئی دہلی۔  ہندوستانی سائنس داں ڈاکٹر ممتاز نیر نے زیکا، ڈینگو اور ہیپاٹائٹس جیسی جان لیوا بیماریوں کے علاج کے لئے ٹیکہ تیار کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اگرموقع اور سہولت فراہم کی جائے تو پسماندہ ترین علاقے کے رہنے والے نوجوان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر نیر کا تعلق بہار کے کشن گنج ضلع کے انتہائی پسماندہ کربلبھٹٹا گاؤں سے ہے جہاں آج بھی کوئی ہائی اسکول نہیں ہے۔ ڈاکٹر نیر کی اس ایجاد کو دنیا بھر کے سائنس دانوں نے ایک انقلابی کھوج بتایا ہے جس سے انہوں نے بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا نام دنیا میں روشن کیا ہے۔ انہوں نے یہ ٹیکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ تھیمپٹن کی لیبارٹری میں تجربات کے دوران تیار کیا ہے۔

اس سلسلے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ‘ ڈاکٹر نیر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ یونیورسٹی آف ساؤتھ تھیمپٹن کی لیباریٹری میں گزشتہ پانچ برسوں سے اس پر کام کرنے کے بعد اس ٹیکے کی تیاری کی سمت میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر یہ ٹیکہ کامیاب ہوجاتا ہے تو دنیا بھر کے میڈیکل سائنس میں انقلاب آجائے گا اور اس سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کو ان لاعلاج بیماریوں سے نجات مل جائے گی اور جان بچائی جاسکے گی۔ ڈاکٹر نیر نے کہا کہ ان کی ٹیم کی تحقیق دنیا کے باوقار میڈیکل اور سائنس جرنل ’سائنس ایممیو نالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے جس میں محققین نے جسم کے مدافعتی نظام (ایمیون سسٹم) کے بنیادی حصہ نیچرل کیلر سیلس (این کے سیلس) پر تحقیق کی ہے جو کئی طرح کی جان لیوا بیماریوں کے وائرس سے لڑنے میں اور ان کے علاج میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں ان کی ٹیم نے ہیپٹائٹس سی سے متاثرہ 300مریضوں کے ڈی این اے کا مطالعہ کیا۔ مطالعہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیچرل کیلر سیلس کے ایک ریسیپٹرKIR2DS2کی مدد سے زیکا، ڈینگو اور ہیپٹائٹس سی کے وائرس کو ناکارہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ممتاز نیر نے زیکا، ڈینگو اور ہیپاٹائٹس سی کے ٹیکے تیار کر کے قوم وملت کا نام کیا روشن

ڈاکٹر نیر برطانیہ میں مشہور یونیورسٹی ساؤتھ تھیمپٹن میں پانچ سے زائد پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاوہ ان کی ٹیم نے کئی نئی ٹکنالوجی کا استعمال کرکے یہ دکھایا کہ ایک ہی ٹیکہ سے کئی وائرس کا دفاع ممکن ہے۔ یہ اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ ہم ویکسین (ٹیکہ) تیار کرنے کے روایتی ماڈل کو ترک کرکے جدید طریقے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جس میں وائرس کی کوٹ پروٹین کو نشانہ نہیں بنا کر نان اسٹرکچلرل پروٹین این ایس تھری ہیلی کیز کو نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ ٹیکہ نیچرل کیلر سیلس پر مبنی ہوگا۔ جو انسان کے مدافعتی نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ ڈاکٹر نیر نے کہا کہ اس تْحقیق کے نتائج سے وہ کافی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کے باشندہ ہیں اور انہیں اس بات سے کافی خوشی ہے کہ ٹیکے کے ایجاد سے ملک کے لوگوں کو ان جان لیوا بیماریوں سے نجات ملے گی ۔ ڈاکٹر نیر کے گائڈ پروفیسر سلیم خاکو نے کہا کہ تحقیق کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں لیکن اس کو استعمال میں لانے سے پہلے اس لیباریٹری میں کئی طرح کے حالات میں ٹسٹ کے مرحلے سے گزارنا ہوگا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ممتاز نیر نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران کالازار، ایچ آئی وی، کینسر کی بیماری پر کنٹرول کے لئے ایک بڑی کھوج کی تھی جو کہ پانچ سال قبل ستمبر 2012میں شائع ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نیر برطانیہ میں مشہور یونیورسٹی ساؤتھ تھیمپٹن میں پانچ سے زائد پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ نیشنل سینٹر فار سیل سائنس، پونے سے انہوں نے ایمیونولوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ماسٹر آف سائنس بایو ٹیکنالوجی میں جامعہ ہمدرد، نئی دہلی سے کیا، جبکہ بی ایس سی بایو ٹیکنالوجی جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے کیا۔ بہار کے کشن گنج ضلع کے بلاک ٹھاکر گنج سے تقریبا 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بیسرباٹی گرام پنچایت کے کربلبھٹٹا گاؤں کے باشندہ ہیں ۔ ان کو اس مقام تک پہنچانے میں والدین کا زبردست کردار رہا ہے۔ بچپن میں والد کے انتقال کے بعد والدہ اور بڑے بھائی کی کافی محنت رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز