رمضان کے چاند میں الجھ کررہ گئے ہندوستانی مسلمان، کون ہے اس کا ذمہ دار؟

پورے ہندوستان کے مسلمان رمضان کے چاند میں الجھے ہوئے ہیں۔ اب تک یہ معمہ بناہوا ہے کہ آج 17 مئی کو یکم رمضان ہے یا پھر 18 مئی بروز جمعہ یکم رمضان تسلیم کیاجائے گا۔ آخر مسلمانوں کے الجھنے کا ذمہ دار کون ہے؟

May 17, 2018 03:54 PM IST | Updated on: May 17, 2018 03:55 PM IST

نئی دہلی:رمضان کے مبارک اور مقدس ماہ کا آغاز ہوگیاہے، ہندوستانی مسلمانوں کے مطابق آج یکم رمضان ہے، لیکن ملک کئی شہروں اور علاقوں میں پہلا روزہ کل ہوگا اور زیادہ تر شہروں اور مقامات پر آج روزہ کا اہتمام بھی کیا گیاہے، لیکن کئی مقامات پر چاند نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے آج یکم رمضان کو نہیں تسلیم کیا اور اب ان لوگوں کا پہلا روزہ کل 18 مئی 2018 بروز جمعہ کو ہوگا۔ تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان کے چاند کے معاملے میں ہندوستانی مسلمان الجھ کررہ گئے۔

مسلمان سحری کے وقت تک چاند ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود بھی پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں اتفاق نہیں ہوسکا اور ملک کے مختلف شہروں میں آج روزہ نہیں رکھا گیاہے۔ ممبئی، پونہ، گجرات، مالیگائوں، بہار کے پٹنہ، اوراترپردیش کے کانپور، بریلی، مبارکپور، سدھارتھ نگر کے علاوہ مختلف مقامات پربھی روزہ نہیں رکھا گیاہے۔

رمضان کے چاند میں الجھ کررہ گئے ہندوستانی مسلمان، کون ہے اس کا ذمہ دار؟

پورے ہندوستان میں ایک ساتھ روزہ نہ ہونے اور ہندوستانی مسلمانوں کااس مسئلہ میں الجھ جانے کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا رویت ہلال کمیٹیاں جو چاند دیکھنے کا ہی فریضہ انجا م دیتی ہیں، انہوں نے شرعی پیمانے پر عمل کرتے ہوئے چاند دیکھنے کے لئے کوئی نظم کیا تھا، یا پھر ادھر ادھر کی واٹس اپ کی اطلاعات کی بنیاد پراعلان کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کیا چاند کا مطلع کا جو پیمانہ ہونا چاہئے، اس پر غور کیا گیا، اس کے بعد اعلان کیا گیا ہے؟

دوسری جانب تمل ناڈو، آندھرا اور کرناٹک کے علاوہ جتنی بھی پریس ریلیز جاری کی گئی ہے، بیشتر میں واضح طور پر چاند کی تصدیق نہیں کی گئی ہے بلکہ یہی لکھا گیا ہے کہ مختلف مقامات پر چاند دیکھنے کی تصدیق ہوئی ہے، اس لئے 17 مئی کو روزہ رکھنے کا اعلان کیاجاتا ہے۔ اس معاملے میں شریعت کیا کہتاہے؟ کہاں سے رویت کی تصدیق ہوگی اور کسے قابل اعتبار سمجھاجائے گا؟ اس معاملے پر جب غور کرتے ہیں، تو تمام پریس ریلیز کو مد نظر رکھتے ہوئے انتہائی مبہم باتیں ہی سامنے آتی ہیں، لہٰذا اب یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ رویت کی تصدیق کے لئے جو پیمانہ اختیار ہے، اس میں کہیں نہ کہیں خامی ضرور رہ گئی، ورنہ رمضان کے معاملے میں شاید اختلاف نہیں ہوتا۔

Loading...

دراصل یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مرکزی مجلس رویت ہلال خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف، امارت شرعیہ ہند، امارت شرعیہ بہار جھارکھنڈ، مرکزی جمعیت اہلحدیث، شاہجہانی جامع مسجد، شاہی جامع مسجد فتحپوری، رویت ہلال کمیٹی پنجاب،لکھنو کی مرکزی چاند کمیٹی جمعیت علما چترادرگہ ، دارالعلوم دیوبندنے اعلان کیا کہ مختلف مقامات پر چاند دیکھا گیا ہے کہ اس لئے 17 مئی یکم رمضان ہوگا۔ اس کے بعد نماز تراویح کا سلسلہ شروع ہوگیا، لیکن مذکورہ کمیٹیاں یہ یقینی بنانے میں ناکام رہیں کہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیاجائے کہ و ہ اتفاق کے ساتھ روزہ رکھیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اب تک شمالی ہندوستان میں کہیں سے یہ اطلاع نہیں ملی ہے کہ وہاں چاند دیکھا گیاہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک، آندھر پردیش اور تمل ناڈو کے ترائی علاقوں میں دیکھا گیا ہے، اس لئے وہاں کی رویت پر ہی اعلان کیا گیاہے، لیکن سوال یہ ہے کہ چاند دیکھنے کے لئے کیا پیمانہ ہونا چاہئے۔کیا چاند کی مصدقہ خبر نہ ہونے کے سبب یوم الشک کی بنیاد پرروزہ رکھنا جائز ہوگا۔ یا پھر اگر چاند نہیں نظر آیا تو آج 30 شعبان ہوگا۔ اسی طرح کیا یوم الوصال کو روزہ رکھنا جائز ہے؟ کیا کلو میٹر کاکوئی پیمانہ بنایا گیا؟ کیا مطلع کی بنیاد پر فرق واضح کیا گیا؟ کیاشمال اور مغرب میں چاند دیکھنے کا کوئی پیمانہ اپنایا گیا؟ ان سب سوالات کے جواب کون دے گا؟ کیا مسلمانوں کو یوم الشک اوریوم الوصال کا مطلب سمجھایا ہوتے ان کی مناسب رہنمائی کی گئی ہے؟ ان سب کی جوابدہی کس کی ہوگی، اس جواب کا ہندوستانی مسلمانوں کو انتظار رہے گا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز