شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے حلف نامہ کی شدید تنقید ، بابری مسجد مسئلہ میں عدالت پر بھروسہ رکھنے کی اپیل

Aug 09, 2017 10:44 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 10:44 PM IST

اجودھیا: انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر نجم الحسن غنی نے متنازعہ بابری مسجد-راجم جنم بھومی کے مسئلہ پر عدالت میں شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سے حلف نامہ دیئے جانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم سماج کو عدالت پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر نجم الحسن غنی نے آج یہاں ' یو این آئی ' سے کہا کہ اجودھیا میں متنازعہ بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ پر سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے اور پورے ملک کے مسلم سماج کو عدالت پر بھروسہ کرنا چاہیے جس سے جمہوریت پر اعتماد مضبوط ہوسکے۔ اجودھیا تنازعہ پر اتر پردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ دیا ہے وہ سیاسی اغراض پر مبنی ہے۔ بابری مسجد انہدام کو تقریبا 25 سال پورے ہو چکے ہیں۔ اس دوران شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے اپنا موقف کیوں نہیں رکھا؟ سال 1949 سے مندر اور مسجد کے نام سے عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔ اس میں انہوں نے اس طرح کا حلف نامہ کیوں نہیں دیا۔ آج سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرنے کا مطلب کیا ہے؟

شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے حلف نامہ کی شدید تنقید ، بابری مسجد مسئلہ میں عدالت پر بھروسہ رکھنے کی اپیل

یونین مسلم لیگ کے ریاستی صدر نے کہا کہ اتر پردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کے خلاف یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کبھی بھی وقف بورڈ کی املاک کی سی بی آئی سے جانچ کرا سکتی ہے، اسی لئے انہوں نے ریاست کی موجودہ حکومت سے نزدیکیاں بڑھانے کیلئے ایسا حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز