اسمبلی انتخابات کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھلنے کی توقع

Feb 26, 2017 07:06 PM IST | Updated on: Feb 26, 2017 07:06 PM IST

نئی دہلی : آئندہ ماہ اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا دروازہ پھر سے کھلنے کی توقع ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ہندوستانی سفارتی گلیاروں میں حکومت پاکستان کی طرف سے حال ہی میں کئے گئے اقدامات کو مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ہندوستان بار بار کہتا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل پر بات کرنے کو تیار ہے لیکن بات چیت دہشت گردی کے سائے میں نہیں ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق لشکر طیبہ کے سرغنہ حافظ سعید کو پاکستانی قانون کے مطابق دہشت گرد درج کئے جانے ، غلطی سے کنٹرول لائن پار کرنے والے ہندوستانی فوجی چندو چوہان کو واپس بھیجنے، لال شہباز قلندر کی درگاہ پر بم دھماکہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ایکشن، ہندوستان میں تعینات ہائی کمشنر عبدالباسط کی جگہ تہمینہ جنجوعہ کو خارجہ سکریٹری بنانے جیسے چند فیصلوں اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ بیانات کے بعد بات چیت کی کھڑکی کھلنے کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستان سے بات چیت کا ماحول بنانے میں مددگار چند اقدامات کئے ہیں۔ممبئی، پٹھان کوٹ اور اڑي حملوں کے سلسلے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں هونے کے باوجود حافظ سعید اور اس کے ساتھی قاضی کاشف کے نام کو پنجاب حکومت کے انسداد دہشت گردی قانون کے چوتھے باب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان وزارت داخلی سلامتی نے انسداد دہشت گردی محکمہ کو حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ضروری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے حافظ سعید اور اس کے چار رفقاء 30 جنوری سے نظر بند کئے جا چکے ہیں۔

اسمبلی انتخابات کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھلنے کی توقع

ہندوستان نے اپنے رسمی ردعمل میں ان حملوں کی سازش میں ملوث حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت درج کئے جانے کو پہلا مثبت اور منطقی قدم قرار دیتے ہوئے خیر مقدم کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ حافظ سعید ایک بین الاقوامی دہشت گرد ہے۔ وہ ممبئی حملے کا محرک ہے اور لشکر طیبہ اور جماعت الد عوہ وغیرہ تنظیموں کے ذریعے سے پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس کے اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی انہیں قانون کے شکنجے میں لانے اور علاقے کو دہشت گردی اور پرتشدد بنیاد پرستی سے نجات دلانے کی سمت میں پہلا منطقی قدم ہے۔

ہندوستان سمجھتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا کرنے میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط بھی ذمہ دار ہیں۔مئی 2014 میں وزیراعظم نواز شریف سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بات چیت میں ہونے والے اتفاق رائے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سکریٹری کی سطح پربات چیت سے پہلے حریت رہنماؤں کو بات چیت کے لئے مدعو کرنے سے لے کر پاکستانی خارجہ سکریٹری اعجاز احمد چودھری کے دورہ ہند کے دوران ٹوئٹر جنگ کے پیچھے مسٹر عبدالباسط کو ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ستمبر 2016 میں ہندوستانی فوج کی طرف سے سرحدپار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائک کئے جانے کے بعد نئی دہلی سے مسٹر عبدالباسط کی بھی رخصتی ہو گئی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسٹر عبدالباسط پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دور میں راولپنڈی سے ہدایات لیتے تھے۔ ادھر پاکستانی وزیر اعظم بھی مسٹر عبدالباسط کی کار ستانیوں سے عدم اطمینانی محسوس کر رہے تھے۔

اگرچہ مسٹر عبدالباسط کی پاکستان کے خارجہ سکریٹری کے عہدے پر تقرری کی قیاس آرائی کی جارہی تھی لیکن آخری وقت میں اقوام متحدہ کے جنیوا میں واقع مستقل مشن میں تعینات تہمینہ جنجوعہ کو اس عہدے پر مقرر کر دیا گیا۔ توقع ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی خاتون سکریٹری خارجہ مارچ میں اپنا عہدہ سبھالیں گي۔

امریکہ میں گزشتہ ماہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے امریکی صدر کے عہدے کا حلف لینے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں مسلم دہشت گردی کے صفایا کے لئے ان کے اعلان نے بھی پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے پابند کیا۔ مسٹر ٹرمپ کی وزیر اعظم مسٹر مودی سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت اور دہشت گردی کے مسئلے پر انتہائی اسٹریٹجک تعاون کے اعلان سے ایسے اشارے گئے ہیں کہ ہندوستان حافظ سعید اور مسعود اظہر پر براہ راست کارروائی کا راستہ اختیارکر سکتا ہے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان حرکت میں آئی اور 30 ​​جنوری کو حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کو نظر بند کر دیا گیا۔ دریں اثناء، گزشتہ سال ستمبر میں غلطی سے کنٹرول لائن پار کرکے پاکستانی فوج کی گرفت میں آنے والے ہندوستانی فوجی جوان چندو چوہان کو بھی ہندوستان کے حوالے کر دیا گيا۔

دوسری جانب ،فروری کے وسط میں پاکستان کے نئے خارجہ سکریٹری کا اعلان کر دیا گیا۔ مسٹر نواز شریف بھی مسلسل صلح صفائی کرنے اور تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت میں بیان دیتے رہے۔ صوبہ سندھ میں لال شہباز قلندر کی درگاہ پر دہشت گردانہ بم دھماکے میں اسلامک اسٹیٹ کے شامل ہونے کے سر اغوں نے پاکستانی حکمرانوں کے ہوش اڑا دیے۔ اس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورس نے دہشت گردوں کے صفایا کی ایک اور مہم شروع کر دی۔ گزشتہ ہفتے حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت درج کرنے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو مثبت اشارہ د یا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پٹھان کوٹ حملے کے بعد 2016 میں کنٹرول لائن پر گولہ باری کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سفارتی جنگ میں پاکستان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کا ثبوت کشمیر کے سلسلے میں دنیا بھر میں پاکستان کی پروپیگنڈہ مہم کے باوجود ستمبر میں ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائک کے بعد ملا، جب اس دکھ میں چین سمیت کوئی بھی ملک اس کے آنسو پونچھنے آگے نہیں آيا۔ اس کے بعد پاکستانی اقتدار کے ارباب میں فوج اور جمہوری نظام کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے۔ جمہوری حکومت نے فوج کے موقف کے برعکس راستہ اختیار کیا۔جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کے سربراہی اجلاس کے منسوخ ہونے اور رکن ممالک کے ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہونے سے اس کا بحران مزید بڑھ گیا۔ لیکن فوج کے دباؤ میں رہنے والی حکومت پاکستان کی مشکلیں نومبر میں آرمی چیف راحیل شریف کی الوداعی کے بعد کچھ کم ہوئیں اور ہندوستان سے صلح کی کوششیں تیز ہوئیں۔ امرتسر میں هارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستانی وزیر اعظم کے امورخارجہ کے مشیر سرتاج عزیز آئے اور ان کو قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بات چیت کا موقع بھی ملا۔

پاکستان میں نواز شریف کی حکومت کے استحکام اور مستقبل کے بارے میں ذرائع کا خیال ہے کہ آئندہ چند سالوں تک پاکستان میں مسٹر نواز شریف کا ہی دبدبہ رہے گا، اس لئے ان کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کشیدہ حالات کو سدھارنے کیلئے پاکستان کی سلسلہ وار کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پھر سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہونے کا پس منظر تیار ہونے لگا ہے۔ اگلے ماہ نئے پاکستانی خارجہ سکریٹری کے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت شروع ہونے کی پوری امید ہے۔ ذرائع کے مطابق 11 مارچ کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آ جائیں گے۔ 13 مارچ کو ہولی کے تہوار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز